لاہور: صوبائی حکومت نے پنجاب میں قانونی اور انتظامی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جو حکومت کے اصلاحی ایجنڈے پر عملدرآمد کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل کمیٹی کے سربراہ مقرر
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیریسٹر ظفراللہ خان کو اس اصلاحاتی کمیٹی کا چیئرمین اور کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ کمیٹی کی قیادت کرتے ہوئے تمام مجوزہ سفارشات کو حتمی شکل دیں گے۔
کمیٹی کلیدی ارکان
اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی میں صوبے کے اہم ترین افسران کو شامل کیا گیا ہے تاکہ بین الضابطہ امور پر موثر سفارشات مرتب کی جا سکیں۔ کمیٹی کے ارکان میں درج ذیل عہدیداران شامل ہیں:
- سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو
- انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس
- سیکرٹری قانون
اصلاحاتی سیل کا قیام اور دائرہ کار
نوٹیفکیشن کے تحت، کمیٹی قانونی اور انتظامی اصلاحات سے متعلق سفارشات تیار کرے گی اور انہیں چیف سیکرٹری کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کرے گی۔ مزید برآں، حکومت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دفتر میں ایک ‘اصلاحاتی سیل’ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس سیل سے متعلق انتظامی اور لاجسٹک امور چیف سیکرٹری پنجاب کی مشاورت سے طے کیے جائیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ کمیٹی پنجاب کے قانونی، انتظامی اور گورننس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی تجاویز تیار کرنے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی ہدف صوبے میں حکمرانی کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید شفاف اور بروقت بنانا ہے۔
