واشنگٹن:یکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات 13 اگست کو اعلان کیا کہ امر فوج کے مستقبل کے طیارہ بردار بحری جہاز ایک بار پھر طیاروں کو لان کرنے کے لی پرانے ماڈل کے کیٹپلٹس استعمال کریں گے۔ انہ نے اس ٹیکنالوجی کو “قابل اعتماد” قرار دیا، تاہم ماہرین کے مط اس تبدیلی پر کئی ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔
صدارتی سلام کی ایک یادداشت میں ٹرمپ نے اس اقدام کو بحریہ کے جہازوں کی تعمیر اور مرمت پروگراموں میں طویل مدتی مسائل کو درست کرنے کے لیے قرار دیا۔ یہ اان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ تنازعات، جن میں ایران کی جنگ بھ شامل ہے، نے عمر رسیدہ جہازوں اور طویل سپلائی تاخیر کی وجہ سے پیدا ہے والی مشکلات کو اجاگر کیا ہے۔
اربوں ڈالر کی لاگت کا
صدارتی حکم کے تحت پینٹاگون کو اب الیکٹرو میگنیک ایئرکرافٹ لانچ سسٹم (EMALS) کو ہائیڈرولک اور بھاپ والے نظاموں سے تبدیل کرنا ہوگا۔ اس تبدیلی سے سب سے پہلے متاثر ہونےا جہاز یو ایس ایس ڈورس ملر ہوگا، جو جدید ترین نیوکلیر پروپلشن ماڈل ہے اور جس کی ترسیل 2034 میں متوقع ہے۔
سینیٹر کی تنقیدسابق خلاباز اور بحریہ کے افسر، ڈیموکریٹک سینیٹرک کیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹرمپ کے فیصلے پر تنید کی۔ انہوں نے لکھا: “میں نے طیارہ بردار بحری جہازوں کے الے حصے سے سینکڑوں بار پرواز کی ہے، ایروناٹیکل انجینئرنگ ماسٹرز کی ڈگری رکھتا ہوں، اور ایک ٹیسٹ پائلٹ ہوں،ھر بھی میں بحریہ کو یہ تجویز نہیں کروں گا کہ وہ اپنے جہازوں پر مخصوص نظام کیسے انجینئر کرے۔”
صتی یادداشت میں پینٹاگون کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ و تعمیراتی رفتار کو تیز کرنے کے لیے مختصر مدت میں غیر ملکی سپلائرز سے خریداری کیازت دینے والے معاہدے کرے۔
جنرل اٹامکسا ردعمل
یو ایس ایس ڈورس ملر پر الیکٹرو میگٹک کیٹپلٹس بنانے کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی جنر اٹامکس نے کہا ہے کہ نظام تبدیل کرنے کا یہ فیصلہ “محتاط نظرانی کا مستحق ہے۔”
ٹرمپ 2017 سے ہی ان لانچ سسٹز کے بارے میں شکایات کرتے رہے ہیں، ان کا کہنا تھا ک یہ “اچھے نہیں” ہیں اور ان میں بھاپ والے کیٹپلٹسیسی “طاقت نہیں” ہے۔
الیکٹرو میگنیٹک کیپلٹ ٹیکنالوجی چین نے اپنے تازہ ترین طیارہ بردار بحری جہ پر استعمال کی ہے، جبکہ فرانس بھی اسے تعینات کرنے کا منصوب رکھتا ہے۔
