روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک نئی اور خطرناک شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ ہفتے کی رات سے اتوار کی صبح تک روسی دارالحکومت ماسکو کو 600 ڈرونز نے نشانہ بنایا، جسے حالیہ مہینوں میں سب سے بڑے حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے روسی میسجنگ ایپ میکس پر بتایا کہ دارالحکومت کی طرف بڑھنے والے 600 ڈرونز میں سے 201 کو شہر کے گرد حفاظتی حصار میں مار گرایا گیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس حملے میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دونوں ممالک میں رات بھر جانی نقصان
روس اور یوکرین دونوں نے رات کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں مجموعی طور پر چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ روسی حکام کے مطابق جنوب مغربی علاقے روستوف میں تین افراد مارے گئے، جبکہ یوکرین میں زاپوریژیا کے علاقے میں دو اور وسطی شہر کریوی ریہ میں ایک شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
فروری 2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے آغاز کے بعد سے ماسکو، جو محاذ سے سینکڑوں کلومیٹر دور واقع ہے، نسبتاً کم نشانہ بنتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں یوکرینی فوج کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت میں اضافے کے بعد روسی سرزمین پر حملوں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کیف پر بیلسٹک میزائلوں کا حملہ
دوسری جانب یوکرین کے دارالحکومت کیف کو بھی رات کے وقت بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ کیف کے میئر ویتالی کلچکو نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بجے سے کچھ پہلے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امدادی کارکنوں کے مطابق ایک بازار میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔
شہریوں کے لیے سب سے مہلک مہینہ
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی نگرانی مشن (HRMMU) کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ یوکرین میں شہریوں کے لیے مئی 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوا۔ جولائی میں 437 عام شہری مارے گئے اور 2,610 زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں خاص طور پر کیف کا ذکر کیا گیا، جہاں کم از کم 54 افراد ہلاک اور 202 زخمی ہوئے۔ روسی افواج نے بار بار بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے دارالحکومت پر حملے کیے ہیں۔ اگست کے آغاز میں کیف اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والے حملوں میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ یوکرین انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت کی وجہ سے ایک بھی روسی میزائل مار گرانے میں ناکام رہا تھا۔
جنگ کا بدلتا ہوا انداز
چار سال سے زائد عرصے سے جاری یہ تنازع اب یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ دونوں اطراف سے حملوں کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یوکرین کی جانب سے ڈرون حملوں کی یہ نئی لہر ظاہر کرتی ہے کہ کیف اب روسی دارالحکومت تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ماسکو کے لیے ایک بڑا سیکورٹی چیلنج بن چکا ہے۔
فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈرون جنگ کے اس نئے انداز نے روایتی جنگی حکمت عملی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ سستے اور بڑی تعداد میں تیار کیے جانے والے ڈرونز اب دفاعی نظام کے لیے ایک سنگین آزمائش بن چکے ہیں، کیونکہ انہیں مار گرانا روایتی میزائلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
