پیرس: فرانسیسی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں نے مردانہ بالادستی کے نظریے کو فروغ دینے والی تحریک کو ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے زمرے میں رکھتے ہوئے اس پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ یہ نظریہ خواتین کے حقوق کی تحریک کے خلاف ردعمل کے طور پر ابھرا ہے اور آن لائن نفرت انگیز مواد کے ذریعے تیزی سے پھیل رہا ہے۔
حکام کے مطابق، اس نظریے کے پیروکار خواتین کو کمتر ثابت کرنے اور مردوں کو معاشرے میں بالادستی دلانے کے لیے منظم طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہیں بلکہ بعض واقعات میں تشدد کی طرف مائل ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔
آن لائن نفرت سے حقیقی خطرے تک کا سفر
فرانسیسی اخبار لے موند کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خفیہ ادارے ایسے افراد اور گروہوں کی نگرانی کر رہے ہیں جو خواتین کے خلاف نفرت انگیز بیانات پھیلاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں سے کچھ افراد خود کو “اوجی” جیسے فرضی ناموں سے متعارف کراتے ہیں، جیسا کہ ایک معروف امریکی فٹبال کھلاڑی کے نام سے لیا گیا ہے جو اپنی سابقہ اہلیہ کے قتل کے مقدمے میں بری ہو گیا تھا۔
یہ افراد صحافیوں اور خواتین کے حقوق کی علمبردار شخصیات کو مسلسل دھمکی آمیز پیغامات بھیجتے ہیں۔ ان کے بیانات میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ “حقوق نسواں کی تحریک حد سے تجاوز کر چکی ہے” اور “مرد اصل میں امتیازی سلوک کا شکار ہیں”۔
خفیہ اداروں کی تشویش میں اضافہ
فرانسیسی انٹیلیجنس حکام کا ماننا ہے کہ یہ نظریہ محض آن لائن بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے منظم شکل اختیار کر لی ہے۔ کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جو خواتین کے خلاف جسمانی تشدد کو جائز قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دہشت گردی کے ممکنہ زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
ایک سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح انتہا پسند نظریات رکھنے والے افراد پہلے آن لائن سرگرم ہوتے ہیں اور پھر حقیقی دنیا میں تشدد کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مردانہ بالادستی کا نظریہ بھی اسی راستے پر گامزن ہے۔”
معاشرتی اثرات اور آگے کا راستہ
ماہرین سماجیات کے مطابق، اس نظریے کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ معاشی عدم مساوات اور سماجی دباؤ ہے۔ کچھ نوجوان مرد خود کو نظر انداز شدہ محسوس کرتے ہیں اور ایسے گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں جو انہیں جھوٹی بالادستی کا احساس دلاتے ہیں۔
فرانسیسی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے آن لائن مواد کی نگرانی کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ساتھ ہی، اسکولوں اور کالجوں میں صنفی مساوات کے بارے میں آگاہی پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں تاکہ نوجوان نسل کو انتہا پسندانہ نظریات سے بچایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ صرف فرانس کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے یورپ میں اس طرح کے نظریات پھیل رہے ہیں۔ اس لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
