پیرس: فرانس میں ہر پانچ میں سے ایک سے زائد بالغ فرد تنہا رہتا ہے، لیکن یہ تنہائی ہمیشہ مجبوری نہیں ہوتی۔ مایوس کن ملاقاتوں، زہریلے رشتوں اور ڈیٹنگ ایپس کی ذہنی اذیت سے تنگ آ کر بہت سے افراد نے جان بوجھ کر محبت کی تلاش کو خیرباد کہہ دیا ہے۔
قومی ادارہ شماریات و معاشی مطالعات کے مطابق 2023 میں فرانس میں 22 فیصد بالغ افراد اکیلے رہ رہے تھے، جو 2017 کے 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ ماہر عمرانیات کرسٹوف گیروڈ کہتے ہیں کہ طلاق کا آسان ہونا اور شادی کی اہمیت میں کمی نے زندگی میں کئی رشتوں اور درمیانی عرصے میں مجردی کو عام بنا دیا ہے۔
مایوس کن تجربات نے رشتوں سے دور کر دیا
33 سالہ ایوا، جو ادب کی پروفیسر ہیں، اپنی آخری علیحدگی کے ڈیڑھ سال بعد محبت کی تلاش سے ریٹائرمنٹ لے چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: “یہ بہت زیادہ توانائی اور وقت کا ضیاع تھا۔” انہوں نے ایک ملاقات کا واقعہ سنایا جس میں وہ اتنی بیزار ہوئیں کہ ان کی ناک سے خون بہنے لگا، لیکن سامنے بیٹھا شخص اپنی ذات میں اتنا مگن تھا کہ اسے محسوس تک نہیں ہوا۔
قومی آبادیاتی مطالعات کے ادارے کی 2020 کی ایک تحقیق کے مطابق ایک تہائی مرد اور تقریباً نصف خواتین مجرد افراد نے اپنی صورت حال خود منتخب کی ہے۔ 34 سالہ ٹیچر مارجوری نے زچگی کے بعد ڈپریشن کے دوران ساتھی کی بے حسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: “میرا رشتہ کوئی پناہ گاہ نہیں تھا جہاں میں خود کو محفوظ محسوس کرتی۔”
جوڑے کی قید سے آزادی کا احساس
29 سالہ اداکار ژاں تھامس نے اعتراف کیا کہ رشتے میں وہ خود کو قربان کرنے لگتے تھے۔ “مجھے ڈر لگنے لگا کہ میں اپنی زندگی کے اصل مقاصد سے محروم نہ رہ جاؤں،” انہوں نے کہا۔ بہت سے افراد کے لیے ڈیٹنگ ایپس کا تجربہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ 39 سالہ تھامس نے ٹنڈر اور گرائنڈر جیسی ایپس ڈیلیٹ کر دیں اور کہا کہ آن لائن انسانی تعلقات میں “ناقابل یقین حد تک تشدد” پایا جاتا ہے جو خود اعتمادی کو مجروح کرتا ہے۔
پوڈکاسٹ “یہ تم نہیں، میں ہوں” کی میزبان لیزلی گرانوڈ نے تین ہفتوں میں تین بار “گھوسٹ” ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: “میں اپنے آپ کو یہ اذیت کیوں دوں؟ یہ نفسیاتی تشدد ہے۔”
تنہائی میں خود سے ملاقات اور ذہنی سکون
مجردی اختیار کرنے والے افراد نے تنہائی میں ایک نئی زندگی دریافت کی ہے۔ 30 سالہ ہیری کہتے ہیں: “جب میں کام سے واپس آتا ہوں تو جو چاہے کرتا ہوں — دوستوں سے ملنا، ویڈیو گیمز کھیلنا، ورزش کرنا۔” 33 سالہ انجینئر ناتھالی نے کہا: “میں نے جان لیا کہ میری قدر کسی مرد کی نظر کی محتاج نہیں۔”
تاہم یہ راستہ مشکلات سے خالی نہیں۔ مارجوری نے علیحدگی کے مالی بوجھ کا ذکر کیا، جبکہ ناتھالی نے اعتراف کیا کہ انہیں گلے ملنے کی کمی محسوس ہوتی ہے، لیکن اب وہ دوستوں کے ساتھ زیادہ محبت بھرا رویہ رکھتی ہیں۔
سماجی دباؤ اور دقیانوسی تصورات
مجرد افراد کو اکثر سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 44 سالہ سیسل نے بتایا کہ ان کا خاندان ان کی مجردی کو ناکامی سمجھتا ہے اور یہ بھی کہ وہ ہر وقت دستیاب ہیں۔ مصنفہ میری کوک اپنی کتاب “بوڑھی کنواری” میں ان تعصبات کا ذکر کرتی ہیں جو بے اولاد مجرد خواتین کو جھیلنے پڑتے ہیں۔
لیکن رویوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔ لیزلی گرانوڈ نے تین سالوں میں مجرد افراد کے بیانات میں واضح فرق دیکھا ہے: “پہلے خواتین اپنی مجردی پر پریشان ہوتی تھیں کہ انہیں محبت کیوں نہیں ملتی۔ آج اکثریت کہتی ہے: ‘میری زندگی میں کوئی کیوں ہو؟ وہ مجھے کیا دے سکتا ہے؟'”
مستقبل کے لیے کھلا ذہن
زیادہ تر مجرد افراد اگرچہ محبت کی تلاش سے تھک چکے ہیں، لیکن اچھے رشتے کے لیے دروازے بند نہیں کیے۔ 30 سالہ ہیری کہتے ہیں: “میرا ارادہ ساری زندگی مجرد رہنے کا نہیں، لیکن مجھے کوئی جلدی نہیں۔” 60 سالہ ویلری نے کہا: “میں ملاقاتوں کے لیے بالکل بند نہیں ہوں، لیکن اب میں جانتی ہوں کہ مجھے کیا نہیں چاہیے۔”
29 سالہ ژاں تھامس نے نئے مجرد افراد کو مشورہ دیا: “آہستہ آہستہ خود کو چیلنج کریں۔ میں نے اکیلے سینما جانا اور سفر کرنا شروع کیا۔” آج وہ ریستوران میں اکیلے کھانا کھاتے ہیں، سامنے کوئی فون یا کتاب نہیں ہوتی — صرف ان کی پلیٹ ہوتی ہے۔
