اسلام آباد: پاکستان نے ایک اور اہم سفارتی سنگ میل عبور کرتے ہوئے آج (17 اگست) سے اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کی صدارت سنبھال لی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان اور اسلحہ کنٹرول و بین الاقوامی سلامتی کے ایڈیشنل فارن سیکرٹری طاہر اندرابی کانفرنس کے نئے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔
طاہر اندرابی پہلے ہی جنیوا پہنچ چکے ہیں اور آئندہ روز کانفرنس کے اہم اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی صدارت کے دوران بنیادی ذمہ داری کانفرنس کی کارروائی کو منظم، متوازن اور اتفاق رائے پر مبنی انداز میں آگے بڑھانا ہوگی۔
سالانہ رپورٹ اور جنرل اسمبلی قرارداد
صدر کی حیثیت سے طاہر اندرابی کانفرنس کی سالانہ رپورٹ بھی تیار کریں گے جو رکن ممالک کو منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ یہ رپورٹ پورے سال کے دوران کانفرنس کے کام، مباحثوں، مذاکرات اور ایجنڈے پر پیش رفت کا احاطہ کرے گی۔
سالانہ رپورٹ کی بنیاد پر پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی مسودہ قرارداد پر مذاکرات میں سہولت فراہم کرے گا، جس کی منظوری نومبر میں متوقع ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کانفرنس کے 2027 کے ایجنڈے پر مشاورت اور مذاکرات میں بھی معاونت کرے گا۔
خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کی روک تھام پر بحث
صدر کی حیثیت سے پاکستان اس ہفتے خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کی روک تھام (پاروس) پر ایک اہم بحث کا انعقاد کرے گا۔ امریکہ اور یورپی ممالک کے پاروس پر مؤقف چین اور روس سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اختلافات کو ختم کرنے میں پاکستان کا کردار اس کی صدارت کے اہم چیلنجوں میں سے ایک ہوگا۔
کانفرنس کے اہم موضوعات
کانفرنس میں جوہری تخفیف اسلحہ، جوہری جنگ کی روک تھام، منفی سلامتی کی یقین دہانیاں، فسل میٹریل کٹ آف ٹریٹی (ایف ایم سی ٹی) اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر بھی بات چیت ہوگی۔ مباحثوں میں مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال، بین الاقوامی اور علاقائی امن اور اسٹریٹجک استحکام شامل ہوں گے۔
عالمی کشیدگی کے درمیان پاکستان کا کردار
پاکستان کی صدارت ایسے وقت میں آئی ہے جب عالمی سطح پر اسٹریٹجک کشیدگی عروج پر ہے۔ روس یوکرین جنگ، امریکہ چین اسٹریٹجک مسابقت، جوہری ہتھیاروں کی جدید کاری، خلا کی عسکریت اور فوجی امور میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال تخفیف اسلحہ کانفرنس کو پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا رہے ہیں۔
اس ماحول میں پاکستان کی صدارت عالمی سلامتی میں نمایاں سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ حال ہی میں 41 ممالک نے کانفرنس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں اور خلائی لانچ سرگرمیوں سے متعلق کم از کم 24 گھنٹے قبل اطلاع دینے کی شرط کا مطالبہ کیا تھا۔
اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس دنیا کا واحد مستقل کثیر الجہتی مذاکراتی فورم ہے جو تخفیف اسلحہ کے معاہدوں اور اسلحہ کنٹرول کے لیے وقف ہے۔ یہ 65 رکن ممالک پر مشتمل ہے۔
