پیرس: فرانس کی آئینی عدالت نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے متنازعہ قانون کو مسترد کر دیا ہے، جو صدر ایمانوئل میکرون کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ قانون آزادی اظہار اور مواصلات کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
جمعہ 14 اگست کو جاری ہونے والے فیصلے میں ججوں نے کہا کہ قانون کا پہلا آرٹیکل “آزادی اظہار اور مواصلات پر حملہ ہے” اور یہ حملہ “مطلوبہ مقصد کے لیے موزوں، ضروری اور متناسب نہیں ہے۔” یہ فیصلہ میکرون کے لیے خاص طور پر تکلیف دہ ہے جنہوں نے حالیہ مہینوں میں اس مسئلے پر کافی سیاسی سرمایہ خرچ کیا تھا۔
آئینی عدالت کے تحفظات
عدالت میں یہ معاملہ جولائی کے آخر میں سوشلسٹ اور لا فرانس انسومیز پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔ ججوں نے اگرچہ “بچوں کے اعلیٰ مفاد کے تحفظ کی آئینی ضرورت” کو تسلیم کیا، لیکن انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ وسیع پابندی “ایسی آن لائن کمیونیکیشن سروسز پر بھی لاگو ہو سکتی ہے جن کے نابالغوں کی صحت اور حفاظت کے لیے خطرات ثابت نہیں ہیں۔”
نجی زندگی کے تحفظ پر خدشات
یکم ستمبر سے نافذ العمل ہونے والا یہ قانون نوجوانوں کو نہ صرف ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، ایکس اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے دور رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا بلکہ یوٹیوب جیسی مقبول سائٹس کی سماجی خصوصیات، واٹس ایپ اور میسنجر جیسی میسجنگ ایپس اور کچھ آن لائن ویڈیو گیمز تک رسائی بھی محدود کرنا چاہتا تھا۔
حکومت کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد بچوں کو بے چینی، ڈپریشن، نیند کی خرابی اور آن لائن ہراسانی جیسے نقصان دہ اثرات سے بچانا ہے۔ جولائی میں فرانسیسی میڈیا ریگولیٹر آرکوم کی ایک تحقیق کے مطابق 10 سے 14 سال کی عمر کے دو تہائی سے زیادہ بچے اس پابندی کے حق میں تھے۔
قانون سازی کا پیچیدہ عمل
مسترد کیے گئے اس متن پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے درمیان طویل بحث ہوئی تھی۔ سینیٹ نے قانون کے دائرہ کار کو کم کرنے کے لیے ممنوعہ سوشل نیٹ ورکس کی “بلیک لسٹ” شامل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن 21 جولائی کو پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے حتمی ورژن میں یورپی قانون سے عدم مطابقت کے خدشات کے پیش نظر یہ خیال ترک کر دیا گیا۔
آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں عمر کی تصدیق کے نظام کے نفاذ سے صارفین کی نجی زندگی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ قانون میں پلیٹ فارمز کے لیے رجسٹریشن کے وقت عمر کی تصدیق کے آلات نصب کرنے کی شرط تو رکھی گئی تھی لیکن اس کے تکنیکی نفاذ کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
میکرون کا عزم برقرار
اس فیصلے کے باوجود صدر میکرون نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو کو اس موضوع پر دوبارہ کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایلیزی محل کے مطابق میکرون کا عزم ہے کہ یہ اصلاحات “2027 کے موسم بہار تک” مکمل کر لی جائیں گی۔
یہ قانون میکرون کی موجودہ سال کی تین اہم ترجیحات میں سے ایک تھا، جسے وہ 2024 کے موسم بہار سے آگے بڑھا رہے تھے۔ وزیر اعظم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ “آئینی عدالت کے فیصلے اور یورپی فریم ورک کو مدنظر رکھتے ہوئے” جلد از جلد نیا مسودہ تیار کریں۔
