پیرس: فرانس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے نیا تعلیمی سال ایک بار پھر مالی بوجھ میں اضافہ لے کر آیا ہے۔ طلبہ کی سب سے بڑی یونین یونیف کی جانب سے پیر کو جاری کردہ 19ویں سالانہ رپورٹ کے مطابق 2026 میں طلبہ کے اخراجاتِ زندگی میں 1.66 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یہ تازہ اضافہ گزشتہ برسوں کے رجحان کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یونیف کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں ایمانوئل میکرون کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے اب تک ایک تعلیمی سال کی مجموعی لاگت میں 35 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔
ماہانہ اخراجات 1300 یورو تک پہنچ گئے
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومتی امداد حاصل کرنے کے بعد بھی ایک طالب علم پر ماہانہ اوسطاً 1300 یورو کا بوجھ پڑتا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 74 یورو زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ان خاندانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں جو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی سعی کر رہے ہیں۔
یونیف نے اخراجات میں اضافے کی بڑی وجوہات میں رہائش کے کرایوں میں اضافے کو نمایاں قرار دیا ہے۔ نجی شعبے میں اوسط ماہانہ کرایہ 627.11 یورو تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.87 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح سرکاری رہائشی اداروں (کروس) میں کرایہ 1.04 فیصد بڑھ کر 426.36 یورو ہو گیا ہے۔
نقل و حمل کے اخراجات بھی طلبہ کی جیب پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ اسکالرشپ سے محروم طلبہ کے لیے سفری اخراجات میں 2.29 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ اوسطاً 278.59 یورو ماہانہ بنتے ہیں۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں بھی 0.87 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کیمپس فیس اور غیر ملکی طلبہ پر دوہرا بوجھ
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی میں داخلے کی فیسوں میں 2017 سے اب تک 37 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ لازمی کیمپس لائف کنٹریبیوشن (سی وی ای سی) ہے، جو 2018 میں اپنے آغاز کے وقت 90 یورو تھی اور اب بڑھ کر آئندہ تعلیمی سال میں 105 یورو ہو جائے گی۔
یونیف نے خاص طور پر غیر یورپی غیر ملکی طلبہ کی صورت حال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ یونین کے مطابق ان طلبہ کے لیے تعلیم حاصل کرنا مقامی طلبہ کے مقابلے میں دوگنا مہنگا ہے۔ اس کی وجہ اس موسم گرما سے ہاؤسنگ امداد (اے پی ایل) کا خاتمہ اور غیر ملکی طلبہ کے لیے امتیازی اور زیادہ داخلہ فیسوں کا نفاذ ہے۔
یونین نے سمندر پار علاقوں (آؤٹرے میر) سے آنے والے طلبہ کو بھی “حکومتی پالیسیوں کا بھولا ہوا طبقہ” قرار دیا ہے۔ ان طلبہ کو سرزمین فرانس کے طلبہ کے مقابلے میں سالانہ 314 سے 408 یورو تک زائد ادا کرنے پڑتے ہیں۔
“تباہ کن اعداد و شمار”
یونیف کی جنرل سیکرٹری مانون موریٹ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان اعداد و شمار کو “تباہ کن” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ ان کے پیچھے ایسے طلبہ کی زندگیاں ہیں جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں یا پھر مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یونین نے صدر میکرون کے دور میں بننے والی حکومتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ریاست کی ذمہ داریوں سے دستبرداری کا وسیع تر منصوبہ اپنایا ہے۔
- یونیورسٹیاں دائمی طور پر فنڈز کی کمی کا شکار ہیں۔
- کروس (طلبہ رہائشی ادارے) بجٹ میں کٹوتیوں کے باعث دم توڑ رہے ہیں۔
- اسکالرشپ کے نظام میں اصلاحات کو دفن کر دیا گیا ہے۔
- طلبہ کے لیے نئے ہاسٹلز کی تعمیر کے وعدے کبھی پورے نہیں کیے گئے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فرانس میں سماجی عدم مساوات اور قوت خرید میں کمی ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اخراجات میں اضافے کا یہ رجحان جاری رہا تو اعلیٰ تعلیم صرف متمول طبقے تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔
