پیرس: روسی سیاست دان بورس نادیژدین، جو کبھی صدارتی انتخابات میں ولادیمیر پوتن کے خلاف امیدوار تھے، اب پیرس کے مضافاتی علاقے کی خاموش گلیوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ عدالتی کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد وہ تین اگست کو فرانس پہنچے اور ایک معمولی ہوٹل میں رہائش پذیر ہیں۔
ساٹھ سالہ نادیژدین نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں اپنی ڈرامائی فرار کی کہانی سنائی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ماسکو کے قریب ڈولگوپرودنی حلقے سے رکن پارلیمنٹ بننے کی مہم چلا رہے تھے جب انہیں پہلے ’غیر ملکی ایجنٹ‘ قرار دیا گیا، پھر ’انتہا پسندانہ مواد پھیلانے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی۔
عدالت میں طبیعت بگڑی، پھر اچانک راستہ کھلا
جولائی کے وسط میں عدالتی سماعت کے دوران نادیژدین کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ امدادی عملے کو کمرہ عدالت کے باہر اس وقت تک انتظار کرنا پڑا جب تک جج نے اجازت نہ دی۔ چار دن بعد طاقتور وفاقی تحقیقاتی کمیٹی نے ان کے دروازے پر دستک دی اور تین دن بعد پیش ہونے کا حکم دیا۔
اسی رات جب نادیژدین نے سرکاری انتظامی پورٹل چیک کیا تو انہیں حیران کن انکشاف ہوا: ملک چھوڑنے پر عائد پابندی خاموشی سے ہٹا دی گئی تھی۔ وہ کہتے ہیں، “یہ میرے وکلاء کی اپیل کا نتیجہ تھا یا کریملن میں کسی کا فیصلہ، میں نہیں جانتا۔ لیکن میرے پاس صرف ایک یا دو دن تھے۔”
بینک سے یورو، پھر قازقستان کے راستے پیرس
نادیژدین نے صبح سویرے بینک جا کر روبل کو یورو میں تبدیل کیا، شام کو اہلیہ کے ساتھ شیریمیتیوو ہوائی اڈے پہنچے اور قازقستان کے دارالحکومت آستانہ کے لیے پرواز پکڑی۔ وہاں سے استنبول اور پھر پیرس۔ وہ کہتے ہیں، “فرانس مجھے روسی حکومت کے حوالے نہیں کرے گا۔ اور مجھے فرانس سے محبت ہے۔”
جنگی مخالفت اور سیاسی زوال کا سفر
نادیژدین کا سیاسی زوال 2020 کے ریفرنڈم کی مخالفت سے شروع ہوا جس نے پوتن کو دو مزید مدت دیں۔ یوکرین پر حملے کے بعد انہوں نے امن کی وکالت کی اور ٹیلی ویژن اسکرینوں سے غائب ہو گئے جہاں وہ پچیس سال تک باقاعدہ مہمان رہے تھے۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ان کی امیدواری آخری لمحے مسترد کر دی گئی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ان کی سیاسی جماعت کو بند کر دیا گیا، ٹیم کے ارکان پر دباؤ ڈالا گیا اور چار رہنماؤں کو ’غیر ملکی ایجنٹ‘ قرار دیا گیا۔ “میں اپنے بیشتر رابطوں کے لیے زہریلا بن چکا ہوں۔”
ماسکو کے قریب ڈرون حملے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی
نادیژدین کا کہنا ہے کہ روسی عوام کی توجہ اب جنگ اور معیشت پر مرکوز ہے۔ “میرے حلقے میں تقریباً دس لاکھ لوگ رہتے ہیں اور یوکرینی حملے تقریباً روزانہ گوداموں، تیل کی تنصیبات اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ماسکو کے علاقے میں لوگ مر رہے ہیں۔”
ان کے مطابق مہنگائی بزرگ شہریوں اور بچوں والے خاندانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے جبکہ نوجوان جنگ اور انٹرنیٹ پابندیوں سے خوفزدہ ہیں۔ “جتنا ایک آمرانہ نظام مشکلات میں گھرتا ہے، اتنی ہی سختی بڑھاتا ہے۔ اسی لیے میں آج یہاں ہوں۔”
یابلوکو پارٹی پر کریک ڈاؤن اور دوست کی سزا
نادیژدین کا معاملہ تنہا نہیں۔ لبرل جماعت یابلوکو، جو یوکرین میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہے، درجنوں مقدمات کا سامنا کر رہی ہے اور سپریم کورٹ نے اسے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔ اس کے معروف رہنما لیو شلوسبرگ کو جنوری 2025 کی ایک ویڈیو میں جنگ بندی کی وکالت کرنے پر پیر کو گیارہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔
نادیژدین اپنے دیرینہ دوست کے بارے میں کہتے ہیں، “وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ وہ روس میں ہی رہیں گے، اپنے لوگوں کے ساتھ۔ میں نے جلاوطنی کا راستہ چنا کیونکہ دل کے مسائل کے باعث میں سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔”
جلاوطنی میں محدود سیاسی کردار
نادیژدین اب کسی سیاسی کردار کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی برلن میں قائم جلاوطن اپوزیشن جماعت میں شامل ہوں گے۔ “بیرون ملک روسی اپوزیشن کا حقیقی اثر بہت محدود ہے،” وہ تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم انہیں یقین ہے کہ جبر کے باوجود روس کے اندر نئی قیادت ابھرے گی۔
وہ کہتے ہیں، “حکام کے لیے نادیژدین کو روس سے نکالنا ممکن ہے، یابلوکو پر پابندی لگانا ممکن ہے۔ لیکن ان کروڑوں لوگوں کو ختم کرنا قطعاً ناممکن ہے جو جنگ کے خلاف ہیں اور پوتن کی حمایت نہیں کرتے۔”
