اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے جمعہ کے روز پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دیا جائے اور تعاون اور سرمایہ کاری کی نئی راہیں تلاش کی جائیں۔
صدر مملکت نے یہ بات چین افریقہ اینڈ ایشیا ٹریڈ اینڈ کوآپریشن پروموشن ایسوسی ایشن کی صدر ہاؤ یوجیاؤ سے ملاقات کے دوران کہی۔ صدر ہاؤس میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔
کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست رابطوں کی اہمیت
صدر زرداری نے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو بڑھانے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست روابط سے نہ صرف تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ نئی صنعتوں اور شعبوں میں شراکت داری کے دروازے بھی کھلیں گے۔
ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی موجود تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ چین پاکستان کا دیرینہ اور قابل اعتماد دوست ہے اور اقتصادی میدان میں یہ دوستی عوامی سطح پر خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
نئے شعبوں میں تعاون کی تلاش
صدر زرداری نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، خاص طور پر توانائی، انفراسٹرکچر، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چینی کمپنیوں کے لیے پرکشش امکانات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔
چینی ایسوسی ایشن کی صدر ہاؤ یوجیاؤ نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی تنظیم دونوں ممالک کے تاجروں اور صنعت کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں حالیہ برسوں میں نمایاں بہتری آئی ہے تاہم کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست روابط کو مزید فروغ دے کر تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔
