واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی یکسر تبدیل کرتے ہوئے فوجی دباؤ کے بجائے اب “معاشی ڈی ڈے” کا اعلان کر دیا ہے۔ چھ ماہ کی شدید فضائی کارروائیوں اور وسیع بحری ناکہ بندی کے باوجود تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں ناکامی کے بعد واشنگٹن نے تسلیم کیا ہے کہ اب سب سے مؤثر ہتھیار معاشی پابندیاں ہی ہیں۔
بدھ کے روز ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک پیغام میں ٹرمپ نے کہا تھا، “آج میں کسی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان کر رہا ہوں!”۔ اس بیان نے ایران کے ساتھ جاری تنازعے کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے جہاں امریکہ اب عالمی سطح پر تہران کو مکمل تنہا کرنے کی کوشش کرے گا۔
فوجی طاقت کی ناکامی کا اعتراف
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اگر ہم زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالیں تو اس کا مطلب ہے کہ شاید بڑے پیمانے پر دشمنی دوبارہ شروع نہیں ہوگی”۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایک قدامت پسند پوڈ کاسٹ میں اعتراف کیا کہ فروری کے آخر سے جاری امریکی حملے ایران کو جھکانے میں ناکام رہے ہیں اور مسلح قوت کام نہیں کر رہی۔
یہ تسلیم کرنا کہ فوجی آپریشن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا یو ٹرن ہے۔ صدر ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے، لیکن حقیقت میں وہ ایک ایسی دلدل میں پھنس چکے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نظر نہیں آتا۔
ایران کا پراعتماد موقف
دوسری جانب ایرانی حکام خود کو مضبوط پوزیشن میں دیکھ رہے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کو ڈاکٹروں سے ملاقات کے دوران کہا، “بہتر ہے کہ جنگ ابھی ختم ہو جائے، جب کہ ہم طاقت اور عزت کی پوزیشن میں ہیں، اور پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے”۔ انہوں نے امریکہ پر اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کر کے تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ “نام نہاد معاشی ڈی ڈے صرف ایک ڈائیورژن ہے جس کا مقصد خود امریکہ کے اندرونی بحران کو چھپانا ہے”۔ انہوں نے اسے “امریکی معاشی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ خود بے مثال قرضوں اور بڑھتے ہوئے سودی بوجھ سے دوچار ہے۔
عالمی برادری پر دباؤ: “ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف”
ٹرمپ نے اپنے اعلان میں واضح کیا کہ “کوئی بھی ملک جو اپنے مالیاتی اداروں، کمپنیوں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کو ایران کی کسی بھی قسم کی مدد کرنے کی اجازت دے گا، اسے خود بھی بھاری معاشی نتائج بھگتنا ہوں گے”۔ وزیر خزانہ بیسنٹ نے دو ٹوک انداز میں کہا، “آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف”۔
اس دھمکی کا فوری اثر بھی نظر آیا جب ایران کے اہم اقتصادی شراکت دار متحدہ عرب امارات نے تہران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ تاہم، اصل چیلنج چین ہے جو ایران کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔
چین: سب سے بڑی رکاوٹ
اعداد و شمار کے مطابق ایران کی 90 فیصد خام تیل کی برآمدات چین جاتی ہیں۔ بیسنٹ نے بیجنگ پر زور دیا کہ وہ امریکی پابندیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے پاس چین کو مجبور کرنے کے محدود ذرائع ہیں۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے محقق ایڈورڈ فشمین نے نیویارک ٹائمز کو بتایا، “مجھے شک ہے کہ ٹرمپ اس وقت چین کے ساتھ معاشی جنگ چھیڑنے کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں”۔ چین نے بھی امریکی دھمکیوں کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “پابندیاں اور دباؤ مسئلے کا حل نہیں ہیں”۔
گھریلو دباؤ اور انتخابی خطرات
یہ تنازعہ امریکی عوام میں تیزی سے غیر مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمتیں بلند ہیں، جنگی اخراجات بڑھ رہے ہیں، اور آٹھ ماہ سے تعینات طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر سوار فوجیوں کی مشکلات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
کانگریس میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے تین ماہ بعد ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ریپبلکن ووٹرز میں بھی اس جنگ کی حمایت کم ہو رہی ہے۔
