اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پیر کو پانچ روزہ سرکاری دورے پر برطانیہ جائیں گے جس کا مقصد پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو آگے بڑھانا اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ دفتر خارجہ نے اتوار کو یہ اعلان کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اپنے قیام کے دوران برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور وزارت خارجہ، دولت مشترکہ اور ترقیات کے وزیر مملکت برائے پاکستان اسٹیفن ڈاؤٹی سے ملاقاتیں کریں گے۔
نائب وزیراعظم دیگر سینئر برطانوی حکومتی عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔
صومالی قزاقوں کی قید میں پاکستانی عملہ اولین ترجیح
اسحاق ڈار کے ایجنڈے کا ایک اہم معاملہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی عملے کے ارکان کی صورتحال ہوگی۔ دفتر خارجہ نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کریں گے۔
عملے کے ارکان آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 پر سوار ہیں جسے 21 اپریل کو صومالیہ کے پنٹ لینڈ علاقے کے قریب قزاقوں نے قبضے میں لے لیا تھا۔ جہاز پر عملے کے 17 ارکان ہیں جن میں 10 پاکستانی شہری شامل ہیں۔
زیرحراست پاکستانیوں کے اہل خانہ نے طویل قید اور جہاز پر حالات کی خرابی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ نے پاکستانی شہریوں کی محفوظ رہائی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
دولت مشترکہ اور پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں
برطانیہ کے دورے کے دوران اسحاق ڈار دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل شرلی ایوکر بوچوے سے بھی ملیں گے۔ ان کی مصروفیات میں برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی شامل ہوں گی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور برطانیہ سیکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور غیرقانونی نقل مکانی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جون میں برطانوی ہائی کمیشن نے پاکستان کے ساتھ جرائم اور غیرقانونی نقل مکانی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے لیے 8 ملین پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ کا اعلان کیا تھا۔
اس فنڈنگ کا مقصد سرحدی اور ویزا نظام کو مضبوط بنانا، انسانی اسمگلنگ اور ٹریفکنگ کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، برطانیہ میں رہنے کا حق نہ رکھنے والے افراد کی واپسی میں آسانی پیدا کرنا اور غیرقانونی نقل مکانی کے خطرے سے دوچار علاقوں میں کمیونٹی پر مبنی اقدامات کی حمایت کرنا ہے۔
