لاہور (ڈیفنس نیوز) – جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کسی بھی عظیم اپوزیشن اتحاد میں شامل نہیں ہوگی۔ لاہور میں سینئر صحافیوں اور ایڈیٹرز سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ماضی کے سیاسی اتحادوں نے جماعت اسلامی کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کو اپنے سیاسی پلیٹ فارم کے ذریعے آزادانہ طور پر اٹھائے گی اور اس کا مقصد نظام میں بنیادی تبدیلی لانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کسی بیرونی دباؤ یا اتحادی مجبوریوں کے بغیر عوام کا مقدمہ لڑے گی۔
مذاکرات اور دھرنے ایک ساتھ ممکن نہیں
جماعت اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ لاہور، کراچی اور پشاور میں دھرنے دینا ممکن نہیں جبکہ اسلام آباد میں بند کمروں میں مذاکرات جاری رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی جدوجہد اور خفیہ مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے، اس لیے پارٹی اپنی حکمت عملی میں شفافیت کو یقینی بنائے گی۔
ملک گیر ہڑتال کی حکمت عملی کا اعلان
حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حکمت عملی 13 ربیع الاول کو پیش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک مرحلہ وار آگے بڑھے گی، جس میں وہیل جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کے بعد اسلام آباد کی جانب فیصلہ کن مارچ شامل ہوگا۔
- پہلا مرحلہ: عوامی احتجاج اور مظاہرے
- دوسرا مرحلہ: وہیل جام اسٹرائیک
- تیسرا مرحلہ: ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال
- آخری مرحلہ: اسلام آباد مارچ
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ
اس سے قبل لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ان کی جدوجہد بہترین انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لازمی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک آٹے اور چینی مافیا کی موجودگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔ عوام سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آگے آئیں اور اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔
کسانوں اور عوامی وسائل کے مسائل
جماعت اسلامی کے امیر نے کسانوں کو سستی کھاد کی عدم فراہمی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کسان مناسب قیمت پر کھاد حاصل نہیں کر پا رہے، دوسری طرف سرکاری اہلکار عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے مہنگی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ دوہرا معیار ملک کی معاشی حالت کو مزید خراب کر رہا ہے اور جماعت اسلامی اس کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی۔
