فرانس کے شہر کین میں بدھ کی رات ایک ڈرائیور نے ٹرین اسٹیشن کے قریب بس اسٹاپ پر کھڑے افراد کو کار سے کچل دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں چار کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
جان بوجھ کر حملہ کیا گیا
یہ واقعہ رات دس بجے کے قریب کین کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے قریب پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک سیاہ جرمن کار نے ٹرام اسٹاپ کے قریب انتظار کرنے والے افراد کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق متاثرین کی اکثریت غیر ملکی شہریوں پر مشتمل ہے، جن میں افغان، مصری اور بنگلہ دیشی شامل ہیں۔
علاقے کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ جھگڑا قریبی بار میں شروع ہوا تھا جو بعد میں اس خوفناک حملے کی شکل اختیار کر گیا۔
ملزم کی گرفتاری
حملے کے بعد ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا، تاہم پولیس نے اسے قریبی ساحلی قصبے اویسٹرہیم سے گرفتار کر لیا۔ ملزم کی شناخت 26 سالہ ابراہیم آئی کے نام سے ہوئی ہے، جو روس میں پیدا ہوا تھا۔
حکام نے حملے کے محرکات اور حالات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسر پریفیکٹ بھی موقع پر موجود ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔
عینی شاہدین کے بیانات
علاقے میں موجود لوگوں نے خوفناک مناظر بیان کیے ہیں۔ ایک عینی شاہد کے مطابق کار بہت تیز رفتاری سے آئی اور بغیر رکے لوگوں کو کچلتی چلی گئی۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
فرانسیسی حکام نے اس واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ حملہ کسی منصوبہ بندی کا حصہ تھا یا محض ایک ذاتی جھگڑے کا نتیجہ۔
