ایمسٹرڈیم: پاکستان نے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 میں جنوبی افریقہ کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں 4-3 سے شکست دے کر 11ویں پوزیشن اپنے نام کرلی۔ ویگنر اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے میں مقررہ وقت 4-4 گول سے برابر رہنے کے بعد فاتح کا فیصلہ شوٹ آؤٹ میں ہوا۔
یہ کامیابی پاکستانی ہاکی ٹیم کے لیے دو دہائیوں میں ورلڈ کپ کی بہترین کارکردگی ہے۔ گرین شرٹس نے 2010 اور 2018 کے ایڈیشنز میں 12ویں پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ 2014 اور 2023 کے ٹورنامنٹس کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہے تھے۔ پاکستان کی اب تک کی بہترین کارکردگی 2006 کے ورلڈ کپ میں چھٹی پوزیشن رہی ہے۔
میچ کا سنسنی خیز احوال
جنوبی افریقہ نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا اور آٹھویں منٹ میں ٹریور ڈی لورا کے گول سے برتری حاصل کرلی۔ دوسرے کوارٹر کے تیسرے منٹ میں دیان کیسیم نے اسکور بڑھا کر جنوبی افریقہ کو 2-0 کی مضبوط پوزیشن پر پہنچا دیا۔
تاہم پاکستان نے ہاف ٹائم سے قبل شاندار واپسی کی۔ افراز اور محمد عماد نے گول اسکور کرکے اسکور 2-2 سے برابر کردیا۔
آخری لمحات کا ڈرامہ
تیسرے کوارٹر کے آغاز میں رانا وحید اشرف نے پاکستان کو 3-2 کی برتری دلائی لیکن 40ویں منٹ میں مصطفیٰ کیسیم نے جنوبی افریقہ کو دوبارہ برابر کردیا۔
آخری کوارٹر میں مقابلہ مزید دلچسپ ہوگیا۔ 55ویں منٹ میں مصطفیٰ کیسیم نے پنالٹی کارنر پر گول کرکے جنوبی افریقہ کو 4-3 سے آگے کردیا لیکن پاکستان نے ہمت نہیں ہاری۔
مقررہ وقت کے آخری منٹ میں محمد حمادالدین نے گول اسکور کرکے اسکور 4-4 کردیا اور میچ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں چلا گیا۔
شوٹ آؤٹ کا سنسنی خیز اختتام
شوٹ آؤٹ میں دونوں ٹیموں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملا:
- مصطفیٰ کیسیم نے جنوبی افریقہ کا پہلا پنالٹی اسکور کیا، جواب میں ذکریا حیات نے پاکستان کے لیے گول کیا
- کیلون ڈیوس اور عمر مصطفیٰ نے بھی اپنے اپنے پنالٹی اسکور کیے، دو کوششوں کے بعد اسکور برابر رہا
- جنوبی افریقہ کے ہانس نیتھلنگ اور جیمی سیلز مسلسل دو پنالٹی اسکور کرنے میں ناکام رہے
- حنان شاہد نے پاکستان کے لیے اسکور کرکے ٹیم کو 3-2 کی برتری دلادی
رانا وحید اشرف کے پاس فتح مکمل کرنے کا موقع تھا لیکن وہ پنالٹی اسکور نہ کرسکے۔ مصطفیٰ کیسیم نے اسکور کرکے شوٹ آؤٹ 3-3 سے برابر کردیا۔
فیصلہ کن لمحے میں سابق کپتان عماد بٹ نے آخری پنالٹی پر اعتماد کے ساتھ گول اسکور کرکے پاکستان کو ڈرامائی فتح اور 11ویں پوزیشن دلادی۔
یہ کامیابی پاکستانی ہاکی کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور ٹیم کی نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ نے ثابت کیا کہ وہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
