واشنگٹن، ڈی سی: امریکہ اور وینیزویلا نے جمعہ 29 اگست کو ایک ایسے “تاریخی” تیل معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکہ وینیزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد ذخائر پر غالب کنٹرول حاصل کر لے گا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے “عالمی تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ کے تیل کے ذخائر دوگنا ہو جائیں گے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینیزویلا میں ایک عبوری حکومت قائم ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس سے وینیزویلا میں “تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری” آئے گی اور ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
سیاسی غیر یقینی صورتحال: کیا معاہدہ زیادہ دیر قائم رہے گا؟
اس معاہدے کو درپیش سب سے بڑا خطرہ اس کی سیاسی بنیاد ہے۔ یہ معاہدہ ڈیلسے روڈریگز کے ساتھ طے پایا ہے، جو مادورو کی گرفتاری کے بعد سے وینیزویلا کی قائم مقام صدر ہیں۔ روڈریگز نے ٹرمپ کا “گرم جوشی سے” شکریہ ادا کیا ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مستقبل کی کوئی بھی حکومت ان وعدوں سے مکر سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس کے انرجی انسٹی ٹیوٹ کے محقق جارج آر پینون کہتے ہیں کہ “مستقبل کی حکومت واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کو منسوخ کر سکتی ہے اور کھیل کے قواعد اچانک بدل سکتی ہے۔” اس لیے یہ معاہدہ طویل مدتی استحکام کی ضمانت نہیں دیتا۔
تباہ حال انفراسٹرکچر: اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت
دوسرا بڑا چیلنج وینیزویلا کا تیل کا ڈھانچہ ہے۔ برسوں کی عدم سرمایہ کاری کے باعث یہ شدید خستہ حال ہے۔ اس کی بحالی کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی، اور ٹرمپ اس کے لیے امریکی تیل کمپنیوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ لیکن کئی کمپنیاں اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
ماضی میں وینیزویلا کی حکومت کی جانب سے غیر ملکی کمپنیوں کی جائیدادیں ضبط کیے جانے کے واقعات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ امریکی کمپنی ایکسون موبل کو دو بار اس کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایگین کیپیٹل کے تجزیہ کار جان کلفی کے مطابق، “وینیزویلا میں بنیادی مسئلہ تحفظ اور سلامتی کا تھا۔” ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اس معاہدے کے ذریعے ایک ایسا محفوظ زون بنانا چاہتا ہے جہاں امریکی کمپنیاں بغیر کسی سیاسی خطرے کے کام کر سکیں۔
پٹرول کی قیمتوں میں کمی: فوری نہیں، برسوں بعد
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاہدہ “تمام امریکیوں کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی” لائے گا اور “امریکی ٹیکس دہندگان پر کوئی بوجھ نہیں ڈالے گا۔” لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کمی کب آئے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ تیل کے ماہر اوسوالڈو فیلیزولا کے مطابق، “یہ ایسے منصوبے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے اور نتائج دینے میں یقینی طور پر کئی سال لگیں گے۔”
اورینوکو ریسرچ تھنک ٹینک کے بانی الیاس فیرر اس اعلان کو “ان معاہدوں کے گرد بیانیے کا کھیل” قرار دیتے ہیں جو پہلے سے زیر غور تھے۔ ان کے مطابق، ٹرمپ ان انتظامات کو سیاسی فتح کے طور پر پیش کر رہے ہیں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے تنازعے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں۔
واضح رہے کہ امریکہ کے تزویراتی تیل کے ذخائر 1982 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر ہیں۔ دوسری جانب وینیزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر ہیں—303 ارب بیرل سے زائد—لیکن اس کی پیداوار محدود ہے۔ اس لیے قیمتوں پر فوری اثر کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
