اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کر دیا ہے۔ یہ تقرری تین سال کے لیے عمل میں لائی گئی ہے۔
یہ انتظامی تبدیلی پی آئی ایم ایس کے گریڈ 21 ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی چار ماہ کی معطلی کے بعد سامنے آئی ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر محمد سلمان تین سال تک پی آئی ایم ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں گے جبکہ وہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی بدستور برقرار رہیں گے۔
مزید انتظامی تقرریاں اور معطلیاں
حکومت نے ڈاکٹر الطاف حسین کو تین ماہ کے لیے پی آئی ایم ایس کا جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی تعینات کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہسپتال کے دیگر شعبوں اور افسران سے متعلق بھی علیحدہ انتظامی نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں۔
یہ تقرریاں وزیراعظم شہباز شریف کے اس فیصلے کے بعد عمل میں آئی ہیں جس میں پی آئی ایم ایس سانحے کے تناظر میں آٹھ افراد کی فوری معطلی کی منظوری دی گئی تھی۔
کارروائی کا دائرہ کار
معطل کیے جانے والوں میں پی آئی ایم ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ کے علاوہ ہسپتال سیکیورٹی اور ایمرجنسی سروسز سے وابستہ افسران بھی شامل ہیں۔
دیگر افسران میں ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل عبدالرحمن، نیونٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر سعدیہ ریاض اور ایک سینئر رجسٹرار بھی شامل ہیں۔
حکومت کا یہ فیصلہ واقعے کے بعد پی آئی ایم ایس میں انتظامی، سیکیورٹی اور ایمرجنسی رسپانس کے نظام کا جائزہ لینے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
دہری ذمہ داری کا چیلنج
ڈاکٹر محمد سلمان کی تقرری سے ہسپتال میں نئی انتظامی نگرانی متوقع ہے۔ تاہم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں ان کے عہدے پر برقرار رہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی تین سالہ مدت کے دوران بیک وقت دونوں اداروں میں قائدانہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
