# ایران-امریکہ جنگ: خلیجِ ہرمز کے بحران نے مزید شدت اختیار کر لی
**خلیجِ ہرمز میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی جہاز پر بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب امریکہ نے ایرانی تیل بردار جہازوں پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں خطے میں جنگ کے ساتویں مہینے میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔**
## پاسدارانِ انقلاب کا امریکی بحری جہازوں پر حملہ
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور نیوی کے ایک ڈسٹرائر پر کئی بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان جہازوں پر الزام تھا کہ وہ ایرانی بحری جہازوں میں مداخلت کر رہے تھے اور بحری ناکہ بندی میں حصہ لے رہے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ دونوں جنگی جہاز نقصان پہنچنے کے بعد مزید حملوں کے خطرے کی وجہ سے علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ امریکی حکام نے ان حملوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔
## امریکی جوابی کارروائی: ایرانی تیل بردار جہاز ڈوب گئے
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایرانی تیل بردار جہاز M/T Kylo کو خلیجِ عمان میں آگ کی لپیٹ میں ڈوبتا دکھایا گیا ہے۔ یہ حملہ امریکی افواج کی جانب سے تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد کیا گیا۔
CENTCOM کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “امریکی فوجیوں کی درستی اور پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت، M/T Kylo آج خلیجِ عمان میں ڈوب گیا اور ایران کی بحریہ کے ساتھ سمندر کی تہہ میں جا ملا۔”
## خلیجِ ہرمز: بحران کا مرکز
یہ جنگ اب اپنے ساتویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، اور خلیجِ ہرمز اس بحران کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک سینئر افسر علی محمدی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 10 دنوں میں روزانہ دو سے پانچ جہازوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ “30 اگست تک کے 10 دنوں میں، ہر رات پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دو سے پانچ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو سزا دی۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی حملوں سے ان کی نگرانی کی صلاحیتوں پر کوئی فرق نہیں پڑا۔
## عالمی معیشت پر اثرات
اس جنگ نے عالمی معیشت پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔ امریکہ میں لیبر ڈے کے موقع پر پیٹرول کی قیمت ریکارڈ سطح 4.13 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک ڈالر زیادہ ہے۔ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران میں جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ “غیر قانونی اور تباہ کن جنگ” ہزاروں جانیں لے رہی ہے اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
## ایرانی معیشت پر دباؤ
جنگ کے باعث ایرانی ریال کی قدر ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2.27 ملین ریال سے تجاوز کر گیا ہے، جو اب تک کی سب سے کمزور سطح ہے۔
## سفارتی کوششیں جاری
مصر اور عمان نے خلیجِ ہرمز میں بحری نقل و حمل کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعطی نے امریکہ اور ایران پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے تحت مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی اور ترکی کے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک بات چیت کی ہے جس میں علاقائی پیش رفت اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
## اسرائیل کا موقف
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق “80 سے 90 فیصد کام” مکمل کر لیا ہے اور باقی کام کو بھی مکمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے ایٹم بم سے اسرائیل کے وجود کو خطرہ تھا۔
## لبنان میں اسرائیلی حملے
ادھر لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں چار افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں نے نباتیہ الفوقہ کے قریب گندور ہسپتال کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، حالانکہ حملے کے وقت ہسپتال میں کوئی مریض یا عملہ موجود نہیں تھا۔
## امریکی انٹیلیجنس انتباہ
امریکی انٹیلیجنس کا اندازہ ہے کہ ایران مستقبل قریب میں اپنے حملوں میں توسیع پر غور کر رہا ہے، جس میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر حملے شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، تہران ابھی تک اسرائیل پر حملہ کرنے کے فیصلے پر غور کر رہا ہے کیونکہ ایرانی حکام کو توقع ہے کہ اسرائیلی جوابی کارروائی انتہائی شدید ہو گی۔
## امریکی انتباہ
امریکی سفارت خانے نے بحرین میں موجود امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ “انتہائی چوکسی” اختیار کریں۔ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ماضی میں بحرین کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے، اور امریکی شہریوں کو پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
## ایرانی سخت گیر موقف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی جارحیت کا جواب “تیز تر، شدید تر اور زیادہ تکلیف دہ” ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “امریکیوں کو یقیناً احساس ہو گیا ہے کہ ‘مناسب جواب’ کا دور ختم ہو چکا ہے۔”
ایران کی فوجی کمان نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ بحری ناکہ بندی اور ایرانی جہازوں کی “ہراسانی” جاری رکھتا ہے تو ایران امریکی جنگی جہازوں کے خلاف مزید شدید اور ممکنہ طور پر وسیع حملے کرے گا۔
یہ جنگ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق خلیجِ ہرمز کی بندش عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
