# پینٹاگون کا بڑا ایکشن: گولہ بارود کی کمی کی لیک کی تحقیقات کے لیے 50 اعلیٰ افسران کا پولی گراف ٹیسٹ
## خفیہ معلومات کی لیک پر پینٹاگون کی سخت تحقیقات
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے اپنے درجنوں اعلیٰ فوجی حکام کو جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ (پولی گراف) سے گزرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام امریکی فوج میں گولہ بارود کی شدید کمی سے متعلق خفیہ معلومات کی لیک کی تحقیقات کے سلسلے میں اٹھایا گیا ہے۔
## 50 افسران پر مشتمل ٹارگٹڈ تفتیش
نیویارک ٹائمز کی جمعہ 4 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے 50 ارکان — جو پینٹاگون کی منصوبہ بندی اور مشاورتی ٹیم کا حصہ ہیں — کو اس تحقیقات کے دوران پولی گراف ٹیسٹ سے گزرنا پڑا۔ سی بی ایس نیوز نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے، تاہم واضح کیا کہ آرمی چیف جنرل ڈین کین کو اس ٹیسٹ سے مستثنیٰ رکھا گیا۔
## ایران جنگ کے بعد گولہ بارود کا بحران
جولائی کے آخر میں میڈیا رپورٹس میں انکشاف ہوا تھا کہ ایران جنگ میں ذخائر ختم ہونے کے بعد امریکہ اپنے میزائلوں، خاص طور پر انٹرسیپٹر میزائلوں کے استعمال میں راشننگ پر مجبور ہو گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے پاس “بڑی مقدار میں گولہ بارود موجود ہے۔”
## پینٹاگون کا موقف
اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے “عملے یا تحقیقات کے اندرونی معاملات” پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، البتہ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق خفیہ معلومات کے کسی بھی لیک کو “انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے” اور “مناسب تحقیقات کی جا رہی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “خفیہ معلومات کی حفاظت امریکہ اور دنیا بھر میں تعینات ہماری فوج کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔”
## غیر معمولی اور شاذ و نادر اقدام
پولی گراف ٹیسٹ عام طور پر حکومتی افسران کے پس منظر کی جانچ یا حساس قومی رازوں تک رسائی کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس کی تجدید کے دوران کیا جاتا ہے۔ تاہم، نیویارک ٹائمز اور سی بی ایس کے مطابق، لیک کی تحقیقات کے سلسلے میں اتنے بڑے پیمانے پر یہ ٹیسٹ کروانا انتہائی غیر معمولی، بلکہ کسی حد تک بے مثال اقدام ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پینٹاگون کے اندرونی حلقوں میں شدید بے چینی کا باعث بن سکتا ہے۔
