پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے تحریک انصاف کے جلسوں اور احتجاجات پر اب تک 50 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ نے جلسوں کے دوران ہونے والے نقصانات، جن میں جلائی گئی مشینری شامل ہیں، کی ادائیگی بھی اپنی جیب سے کی ہے۔
اس کے علاوہ، کل ہونے والے جلسے کے لیے وزیراعلیٰ نے پارٹی کو 50 لاکھ روپے کا فنڈ فراہم کیا ہے، جبکہ قافلے میں شامل سیکڑوں گاڑیوں کے کرایوں کی ادائیگی بھی کی گئی ہے۔ ڈی آئی خان ریجن سے کل ایک بڑا قافلہ عمر امین کی قیادت میں صوابی پہنچے گا۔
ترجمان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، فراز مغل نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے ہیں اور وہ پارٹی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔
دوسری جانب، علی امین گنڈاپور کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے اندرون خانہ کہانی بھی سامنے آئی ہے۔ جنید اکبر کو پارٹی کا صدر بنانے کے معاملے میں علی امین کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس پر بانی تحریک انصاف عمران خان نے علی امین گنڈاپور پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
عمران خان نے محسن نقوی سے ملاقات کرنے پر بھی علی امین گنڈاپور کی تنقید کی اور کہا کہ انہیں نئے آئی جی کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی سے علی امین اور ہمارے ساتھیوں کی ملاقات کیسے ممکن ہے۔
اس تمام صورت حال کے باوجود، علی امین گنڈاپور کی جانب سے پارٹی کے لیے مالی معاونت جاری رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، جو ان کی سیاسی وابستگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
