ملک بھر میں یومِ عاشورہ کے موقع پر سخت سیکیورٹی کے درمیان ماتمی جلوسوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ہر سال عاشورہ کے موقع پر حضرت امام حسین (علیہ السلام) اور کربلا کے دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
کراچی ٹریفک پولیس نے محرم کی ۸ تا ۱۰ تاریخ کے لیے ٹریفک پلان جاری کیا تھا جس میں جلوس کے راستوں اور متبادل ٹریفک کے انتظامات کو شامل کیا گیا تھا۔ ملک بھر میں فوج کی تعیناتی اور مذہبی منافرت اور فرقہ واریت پر مبنی مواد کے خلاف کارروائی جیسے سخت حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ ملک بھر میں آج کل ۴۸۳۶ جلوس اور ۵۴۸۰ مجالس منعقد ہو رہی ہیں۔ اسلام آباد میں ۵۴ مجالس اور ۱۲ جلوس، پنجاب میں ۲۵۰۲ مجالس اور ۳۰۲۵ جلوس، سندھ میں ۱۰۴۰ مجالس اور ۱۰۳۹ جلوس، خیبر پختونخوا میں ۷۳۵ مجالس اور ۲۵۷ جلوس، بلوچستان میں ۳۲ مجالس اور ۲۴ جلوس، گلگت بلتستان میں ۱۰۷۰ مجالس اور ۱۴۱ جلوس، اور آزاد جموں و کشمیر میں ۴۷ مجالس اور ۴۱ جلوس منعقد ہو رہے ہیں۔
کراچی میں عاشورہ کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے شروع ہوا جس میں تقریباً ۳۵۰۰ سے ۴۰۰۰ افراد نے شرکت کی۔ ٹریفک پولیس کے مطابق، نشتل پارک سے لے کر ایم اے جناح روڈ تک ٹریفک بند کر دیا گیا ہے۔
کراچی پولیس کے مطابق ۷۰۰۴ پولیس اہلکار اور دیگر سیکیورٹی فورسز جلوس کی حفاظت کے لیے تعینات ہیں۔ ٹریفک پولیس نے جلوس کے راستوں پر ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے فراہم کیے ہیں۔
ملتان میں ۲۲۵ مجالس اور ۲۸۳ جلوس منعقد ہو رہے ہیں جن کی سیکیورٹی کے لیے ۵۰۰۰ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ملتان پولیس کے مطابق، جلوسوں کی نگرانی کے لیے ۱۲ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ۱۸۰ سے زائد مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔
پنجاب ایمرجنسی سروس نے عاشورہ کے موقع پر ۶۰۰ ریسکیو اہلکار، ۱۵ فائر ٹینڈرز، ۳۰ ایمبولینسز اور دیگر امدادی گاڑیاں تعینات کی ہیں۔ لاہور میں بھی ۱۳۵۰ ریسکیو اہلکار مصروف عمل ہیں۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عاشورہ ہمیں قربانی، سچائی اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔
عاشورہ کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشتبہ صورتحال کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔
