نئی قیادت کا پہلا ترجیحی ایجنڈا قومی مفادات ہیں
ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی، پاکستانی اور ہندوستانی صحافیوں کے ساتھ سیاسی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے تاریخ اپنے آپ کو دہراتی محسوس ہوئی۔ 2024 میں، ہندوستان ڈھاکہ میں اپنی غلط پالیسیوں کے نتائج بھگت رہا ہے جبکہ پاکستان کے لیے نئی سفارتی راہیں کھل رہی ہیں۔
عوامی رائے اور تاریخی زخم
ایک نوجوان بنگلہ دیشی کا تبصرہ خاصا معنی خیز تھا: “ہم پاکستان اور ہندوستان دونوں کے ساتھ برابر اور بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ تم دونوں نے ہمارے ساتھ یکساں سلوک کیا۔ ہمارے دونوں سے زخم ہیں، لیکن ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔” شیخ حسینہ کے 5 اگست 2024 کو ہندوستان روانہ ہونے کے بعد عوامی سطح پر ہندوستان مخالف جذبات موجود ہیں، لیکن یہ ہندوستانی عوام کی بجائے حکومت ہند کے خلاف ہیں۔
ہندوستان کے لیے چیلنجز اور مواقع
ہندوستان کی حسینہ اور عوامی لیگ پر مکمل انحصار کی پالیسی مہنگی ثابت ہوئی، حالانکہ اب وہ نئے سرے سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 4,096 کلومیٹر زمینی سرحد، 54 دریاؤں کا مشترکہ نظام، اور 14 سے 16 ارب ڈالر کا تجارتی حجم ہے جو گہرے مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے نئی سفارتی کھڑکی
موجودہ دور کا ایک مثبت پہلو پاکستان کے لیے کھلتی ہوئی راہیں ہیں۔ ڈھاکہ میں پاکستانیوں کا گرمجوشی سے استقبال کیا جاتا ہے۔ ایک ریستوران میں ملاقات ہوئی افرازہ بیگم سے، جو 1958 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئیں اور 1974 میں بنگلہ دیش آئیں۔ انہوں نے کہا، “ہمارے دل اب بھی پاکستان میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہمیں ڈھاکہ میں پشاوری کچن کے بارے میں پتہ چلا تو ہم ان یادوں کو تازہ کرنے آئے۔”
تعلقات کی نئی بنیادیں
پاکستانی سفارتکاروں کی کوششیں، خاص طور پر سابق ہائی کمشنر عمران صدیقی اور موجودہ ہائی کمشنر عمران حیدر کی ٹیم، دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 865 ملین ڈالر ہے اور سفارتکار معاشی و سماجی روابط کو وسعت دینے پر توجہ دے رہے ہیں۔
وزیر اعظم منتخب کا رویہ
وزیر اعظم منتخب طارق رحمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ حسینہ کی ہندوستان سے حوالگی کا مطالبہ کریں گے، تو انہوں نے محتاط جواب دیا: “یہ عدالتی عمل پر منحصر ہے۔” رحمان ایک تجربہ کار اور محتاط سیاستدان نظر آتے ہیں جنہوں نے کسی کو ناراض کرنے سے گریز کیا اور عوامی جذبات بھڑکانے والی تقریر سے پرہیز کیا۔
علاقائی تعاون اور سارک کی بحالی
رحمان نے ایک پریس کانفرنس میں The News کے سوال کے جواب میں کہا، “ہم سارک کو دوبارہ منظم کرنے کے لیے کام کریں گے اور حکومت بننے کے بعد اپنے دوستوں سے بات کریں گے، کیونکہ یہ ہماری ہی پہل تھی۔” بنگلہ دیش کی نئی قیادت کا پہلا ترجیح بنگلہ دیش خود اور اس کے قومی مفادات ہیں۔
داخلی مفاہمت کی کوششیں
رحمان نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ملاقات کی اور نیشنل سٹیزنز پارٹی کے نوجوان رہنما نشاد اسلام سے بھی رابطہ قائم کیا، جو شیخ حسینہ کے خلاف تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والی جماعت ہے۔ یہ اقدامات داخلی مفاہمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
نتیجہ
نئی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ قوم کی تعمیر نو کے لیے سیاسی مخالفین کا احترام ضروری ہے۔ سارک کی بحالی کے ذریعے بنگلہ دیش ہندوستان-پاکستان کشمکش کی بجائے علاقائی تعاون کا مرکز بن سکتا ہے۔ طارق رحمان کا نقطہ نظر “بنگلہ دیش پہلے” پر مرکوز ہے نہ کہ پاکستان یا ہندوستان پر۔
