حکومت نے کینیریوں کے ہنگامی حالات کے تحت 4,400 غیر سرپرست غیر ملکی بچوں کی تقسیم کے لیے نئے معیارات طے کر لیے ہیں، جس کے تحت کیٹالونیا اور باسک ملک کو کم بچوں کو قبول کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ وزیر مملکت برائے نوجوانوں اور بچوں سیرہ ریگو اور کینیریوں کے صدر فرناندو کلاویجو نے اس معاملے پر جمعرات کو مادرید میں ملاقات کی۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کینیریوں کے مرکز میں غیر سرپرست بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ تمام خودمختار کمیونٹیز کو ان بچوں کی دیکھ بھال کے لیے یکجہتی اور پائیداری کے ساتھ شامل ہونا ہوگا، تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ کمیونٹیز، خاص طور پر کیٹالونیا اور باسک ملک، کو پہلے سے موجود بچوں کی تعداد کے پیش نظر کم بار اٹھانی پڑے گی۔
کلاویجو کا کہنا ہے کہ اس نئے معیاری نظام سے یہ ممکن ہوگا کہ کچھ کمیونٹیز، جو پہلے ہی زیادہ بچوں کو قبول کر چکی ہیں، اب کم بچوں کو قبول کریں۔ اس کا مقصد بچوں کے حقوق کی حفاظت کرنا اور ہر علاقے میں موجود وسائل کا مناسب استعمال کرنا ہے۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کینیریوں کے صدر اور وزیر مملکت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ حکومت تمام مالی اخراجات کا 100 فیصد برداشت کرے گی جب تک کہ یہ بچے 18 سال کے نہیں ہو جاتے۔ اس کے علاوہ، اگلے ہفتے وزیر خزانہ ماریا جیسس مونٹیرو اور کلاویجو کے درمیان مزید مالی تفصیلات طے کی جائیں گی، جسے حکومت نے کوئی مسئلہ نہیں قرار دیا ہے۔
کینیریوں کے بچوں کی دیکھ بھال کے منصوبے میں کیٹالونیا اور باسک ملک کے موجودہ حالات کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں کیٹالونیا میں 6,734 بچے اور باسک میں تقریباً 790 بچے موجود ہیں۔ اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ دیگر خودمختار کمیونٹیز کی حالت بھی دیکھی جائے گی، جہاں مختلف مقامات پر بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کے باوجود، کچھ سیاسی جماعتیں، خاص طور پر پی پی، اس تقسیم کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کیٹالونیا اور باسک ملک کو بچانے کے لیے کم ذمہ داری ڈال سکتی ہے، جس سے دیگر علاقوں میں عدم توازن پیدا ہوگا۔
یہ سب باتیں اس وقت ہو رہی ہیں جب حکومت کیتالیونیوں اور باسک ملک کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاکہ ان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن نظام تیار کیا جا سکے۔ اس معاملے میں آگے بڑھنے کے لیے حکومت کو تمام خودمختار کمیونٹیز کے ساتھ مشاورت کرنا پڑے گا تاکہ کسی بھی طرح کی پریشانی سے بچا جا سکے۔
