چین کے صدر شی جن پنگ کے خصوصی نمائندے، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے سیاسی بیورو کے رکن اور ریاستی کونسل کے نائب وزیر اعظم ژانگ گُو چینگ اتوار سے بدھ تک فرانس کا دورہ کریں گے۔ ان کا یہ سفر مصنوعی ذہانت (AI) ایکشن سمٹ کے لیے ہو رہا ہے جس کی میزبانی فرانس کر رہا ہے۔ یہ اجلاس پیرس کے گریٹ پیلیس میں ہوگا، جہاں عالمی رہنما، بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان، کاروباری اداروں کے CEOs، اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہوں گے۔
چین اس سمٹ میں شرکت کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر AI کی ترقی کے طریقوں اور اس کے حفاظتی فریم ورک کے بارے میں بصیرت حاصل کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی چین اپنے تجربات کو بھی شیئر کرے گا اور اس شعبے میں عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ تسنگ ہوا یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار AI انٹرنیشنل گورننس کے ڈائریکٹر ژوے لان نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ چین کی طرف سے AI کی ترقی کے حوالے سے جو تجربات حاصل ہوئے ہیں، وہ عالمی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں۔
چین نے 2017 میں AI کی ترقی کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے اس نے اس شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے۔ ڈیپ سِک کے ابھار نے ظاہر کیا ہے کہ چین نے ٹیکنالوجی کی ترقی میں نئے راستے اختیار کیے ہیں، جو چند بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری کو توڑتا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، چین کی ڈیپ سِک نے عالمی AI مقابلے میں ایک نئی سمت کو جنم دیا ہے، جس سے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ امریکہ کا AI شعبہ اتنا مضبوط نہیں رہا۔
امریکہ نے اس سمٹ میں شرکت کے لیے نائب صدر JD Vance، اوپن AI کے CEO سام آلٹمن اور گوگل کے سُندار پچائی کو بھیجا ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ اگرچہ ایلون مسک اس بار مہمانوں کی فہرست میں شامل نہیں ہیں، لیکن وہ اس معاملے پر اپنی رائے دینے سے باز نہیں آئیں گے۔
چین اس سمٹ میں ایک سائیڈ ایونٹ بھی منعقد کرے گا جس کا عنوان “AI ٹیکنالوجی میں ترقی اور اس کا اطلاق” ہوگا، جس کا مقصد عالمی AI ماہرین کے ساتھ رابطے کو مضبوط کرنا ہے۔ اس سمٹ کے دوران، عوامی مفاد، مستقبل کی ملازمتیں، جدت اور ثقافت، AI میں اعتماد اور عالمی AI گورننس جیسے موضوعات پر بحث کی جائے گی۔
فرانس، جو اپنی قومی صنعت کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، اس سمٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد عالمی AI مارکیٹ میں مزدوری کی رکاوٹوں کو کم کرنا اور خود مختاری کو فروغ دینا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چین عالمی AI گورننس کا فعال حامی ہے اور اس اجلاس کے ذریعے وہ عالمی تعاون کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
چین کے نائب وزیر اعظم کا فرانس کا یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کا ایک موقع ہے بلکہ عالمی AI گورننس میں چین کی ذمہ دارانہ کردار کو بھی اجاگر کرے گا۔ اس سمٹ کے ذریعے چین عالمی برادری کے ساتھ رابطے بڑھانے، تعاون کے لیے مشترکہ مفادات کو اکٹھا کرنے اور عالمی ڈیجیٹل معاہدے کے نفاذ کو آگے بڑھانے کی توقع رکھتا ہے۔
