چین کے جے 10 سی ملٹی رول لڑاکا طیارے کے حوالے سے تازہ ترین خبروں میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ طیارہ امریکی ایف-16 کی برآمدات کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکی جریدے کے مطابق، اگر چینی کمپنیاں امریکی ایف-16 کی فروخت میں خلل ڈالنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو یہ امریکی دفاعی شعبے کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔
جرمنی کے ایک معتبر اخبار میں شائع مضمون میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کے دوران رافیل طیاروں کی ناکامی مغرب کے لیے ایک سبق ہے۔ بھارتی پائلٹوں کو پاکستانی پائلٹوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ کے رافیل طیارے گر گئے۔ اس واقعے سے بھارت کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں اٹھنے والے سوالات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب، امریکی جریدے نے نشاندہی کی ہے کہ چین کا جے 10 سی لڑاکا طیارہ امریکی ایف-16 کے لیے حقیقی حریف بننے کی کوشش میں ہے۔ اس کوشش کا مقصد چین کی جانب سے اپنی فضائی برتری کو مستحکم کرنا اور عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنانا ہے۔ اگر چین اس کوشش میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ امریکا کے لیے دفاعی شعبے میں ایک بڑا نقصان ہوگا۔
یہ خبریں اس تناظر میں بھی اہم ہیں کہ حالیہ دنوں میں عالمی دفاعی منڈی میں مقابلہ بڑھتا جا رہا ہے، اور چین کی جانب سے پیش کی جانے والی ٹیکنالوجی دیگر ممالک کے لیے بھی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔ چین کی اس پیش قدمی نے عالمی دفاعی صنعت میں ایک نئی دوڑ کا آغاز کر دیا ہے، جس کا اثر نہ صرف امریکا بلکہ دیگر مغربی ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے۔
