صنعتی اور فوجی ذرائع کے مطابق، چین نے اپنے درمیانے درجے کے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے جے-35اے کی پیداوار میں نمایاں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ طیارہ، جسے برآمدات کے لیے ایف سی-31 بھی کہا جاتا ہے، شینیانگ ایئرکرافٹ کارپوریشن تیار کر رہی ہے۔ اس اقدام کا واضح مقصد امریکی ایف-35 طیارے کے ماڈل کی طرز پر عالمی اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی منڈی میں ایک معتبر مقام حاصل کرنا ہے۔
صنعتی صلاحیت کو حکمت عملی کے تابع
پیداوار میں اضافہ محض صنعتی معاملہ نہیں بلکہ چین کی قومی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد تکنیکی خودمختاری کو مضبوط بنانا اور اسلحہ کی منڈی میں اپنا حصہ بڑھانا ہے۔ جے-35اے کو اب واضح ریاستی حمایت حاصل ہے۔ جے-20 طیارے کے تجربے سے یہ سبق ملا کہ ایک لڑاکا طیارے کی اہمیت صرف اس کی کارکردگی تک محدود نہیں، بلکہ اسے بڑی تعداد میں تیار کرنے اور طویل مدتی بنیادوں پر اس کے بیڑے کو سپورٹ کرنے کی صلاحیت پر بھی منحصر ہے۔
موجودہ معلومات کے مطابق، پیداوار کی شرح کئی درجن طیارے سالانہ ہے، جبکہ درمیانی مدت کا ہدف 40 سے 50 طیارے سالانہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تعداد امریکہ کی ایف-35 پیداوار سے کم ضرور ہے، لیکن عالمی منڈی میں اثر انداز ہونے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔
درمیانی منڈیوں کو لبھانے کی تیاری
جے-35اے دراصل ایف سی-31 ڈیمانسٹریٹر کا ہی ایک جدید اور آپریشنل ورژن ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں ایروڈائنامکس کو بہتر بنایا گیا ہے، ریڈار سگنیچر کم کیا گیا ہے، اندرونی ہتھیاروں کے بی اور جدید ایوینکس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی قیمت ایف-35 سے کم رکھی گئی ہے، جس میں طیارے، تربیت، ہتھیاروں اور سپورٹ کا پیکیج شامل ہوگا۔
چین خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی منڈیوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، جہاں اس کی سفارتی اور صنعتی پہنچ پہلے سے موجود ہے۔ ہر فروخت کے ساتھ تربیت، دیکھ بھال اور بعض اوقات تکنیکی منتقلی کا پیکیج بھی پیش کیا جاتا ہے، جس کا مقصد طویل مدتی انحصار قائم کرنا ہے۔ اس طرح یہ لڑاکا طیارہ اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ بن جاتا ہے۔
