چین نے اپنے عسکری پریڈ کے دوران نیا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ڈی ایف-61 متعارف کرایا ہے۔ یہ ٹھوس ایندھن سے چلنے والا میزائل 12 ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کر سکتا ہے اور امریکی سرزمین تک رسائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ میزائل چین کی فوج کی جدید ترین اسلحہ بندی میں شامل ہے جس کی لمبائی تقریباً 20 میٹر بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈی ایف-41 میزائل کی ترقی یافتہ شکل ہے جو ایک وقت میں 10 الگ الگ ہدفوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیجنگ میں دوسری جنگ عظیم کی 80 ویں برسی کے موقع پر منعقدہ اس پریڈ میں دنیا بھر کے فوجی ماہرین نے نئی چینی عسکری ٹیکنالوجی کو دیکھا۔ ڈی ایف-61 کو آٹھ پہیوں والی موبائل پلیٹ فارم پر پیش کیا گیا اور یہ JL-1، JL-3 اور DF-31 جیسے دیگر میزائلوں کے ساتھ دکھایا گیا۔
سرکاری خبر ایجنسی شینہوا کے مطابق یہ نئے طویل فاصلے کے ہتھیار “ملک کی خودمختاری کی حفاظت اور قومی وقار کے دفاع کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ” ہیں۔ میزائل کی یہ خاصیت اسے امریکہ جیسے ممالک کے لیے اسٹریٹجک خطرہ بناتی ہے۔
یہ پہلی بار 1970 کی دہائی میں ڈی ایف-61 کی نامزدگی سامنے آئی تھی، جب ایک مائع پروپیلنٹ میزائل تیار کیا جا رہا تھا، لیکن یہ منصوبہ 1978 میں ترک کر دیا گیا تھا۔ نئے ڈی ایف-61 میزائل کی ظاہر کردہ صلاحیتوں نے عالمی فوجی تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
