خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے شگئی میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے آپریشن کے دوران 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق، پولیس ٹیم کو دیکھتے ہی دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی جس کے جوابی کارروائی میں تقریباً 40 منٹ تک گولہ باری جاری رہی۔
اسلحہ اور مواد برآمد
کارروائی کے بعد کی گئی تلاشی میں 4 کلاشنکوف، 2 پستول، 8 ہینڈ گرنیڈز اور ایک خود ساختہ دھماکا خیز آلہ (آئی ای ڈی) برآمد کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک شدہ دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
اعلیٰ افسران کا ردعمل
خیبر پختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی نے اس کامیاب آپریشن پر پولیس ٹیم کی تعریف کی۔ آئی جی پی ذوالفقار حمید نے کہا، “ہم دہشت گردوں کو ان کے اڈوں تک پیچھا کر کے انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہم امن کے دشمنوں کو شکست دیں گے۔”
آپریشن غضب للہ کا پس منظر
افغانستان میں 2021 کے بعد طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔ ان واقعات کے پیش نظر پاکستان نے “آپریشن غضب للہ” شروع کیا جس کے دوران سرحدی علاقوں اور ہمسایہ ملک میں 650 سے زائد افغان طالبان جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
حالیہ سرگرمیاں اور چیلنجز
انفارمیشن منسٹر عطاء اللہ تارڑ کے مطابق، اس آپریشن میں 855 سے زائد افغان طالبان جنگجو زخمی ہوئے، 243 چیک پوسٹس تباہ ہوئیں، 42 قبضے میں آئیں اور 219 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے ختم کیے گئے۔ پاکستان نے گذشتہ ماہوں میں فتنہ الخوارج (ایف اے کے) اور داعش خراسان سے تعلق رکھنے والے 7 دہشت گرد کیمپوں اور پناہ گاہوں پر فضائی حملے بھی کیے تھے۔
تاہم، کئی دور مذاکرات کے باوجود، افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔
