چینی چیٹ بوٹ ‘ڈیپ سِیک’، جو حالیہ دنوں میں خاصی توجہ کا مرکز رہا ہے، یورپی ریگولیٹرز کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ اٹلی میں اس کی پابندی کے بعد، فرانس اور آئرلینڈ نے بھی اس کی ذاتی ڈیٹا کے حوالے سے کارروائیوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
ڈیپ سِیک، جو ہانگژو، چین میں قائم ایک اسٹارٹ اپ ہے، اب چیٹ جی پی ٹی کے سامنے ایک سنجیدہ حریف کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کی کارکردگی اور کم قیمت نے اسے امریکی ٹیک جنات کے لیے خطرہ بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے میٹا نے اپنے حریف کی ماڈلز کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کے لیے خصوصی “وار روم” تشکیل دیے ہیں۔ تاہم، اس کی کامیابی نے یورپی ریگولیٹرز کی توجہ بھی حاصل کی ہے، جو اس کی ذاتی ڈیٹا کے حصول اور پروسیسنگ کے طریقوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
اٹلی میں، ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی (GPDP) نے فوری طور پر ڈیپ سِیک تک رسائی کو عارضی طور پر منع کر دیا ہے۔ اس اقدام کی وجہ یہ ہے کہ چینی ڈویلپرز کی جانب سے اٹلی کے صارفین کے ڈیٹا کے حصول، ذرائع اور ذخیرہ کرنے کے حوالے سے فراہم کردہ جوابات کو ناکافی سمجھا گیا۔ اب، ڈیپ سِیک کی موبائل ایپ اٹلی میں ایپ اسٹور اور گوگل پلے اسٹور پر دستیاب نہیں رہی۔ حالانکہ ڈویلپرز نے اس اقدام کی باضابطہ وضاحت نہیں کی، یہ واضح ہے کہ یہ ریگولیٹرز کے سوالات کا نتیجہ ہے۔
فرانس اور آئرلینڈ بھی اس معاملے میں متحرک ہیں۔ فرانس کی قومی کمیشن برائے انفارمیشن اور آزادی (CNIL) نے ڈیپ سِیک کے پیچھے موجود کمپنی سے سوالات کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ذاتی ڈیٹا کی حفاظت سے متعلق خطرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ آئرلینڈ، جہاں کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا یورپی ہیڈکوارٹر ہے، نے بھی اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئرش ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی (DPC) نے چینی اسٹارٹ اپ سے معلومات طلب کی ہیں کہ وہ آئرش شہریوں کے ذاتی معلومات کے ساتھ کیسے کام کر رہی ہے۔
ڈیپ سِیک کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، یہ سروس صارفین کی حساس معلومات جیسے کہ فون نمبر، ڈیوائس کا ماڈل اور ٹائپنگ کی عادات جمع کرتی ہے۔ یہ ڈیٹا چین میں ذخیرہ کیا جاتا ہے اور چینی حکومت کی درخواست پر مقامی حکام کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔ اس محدود شفافیت نے یورپی معیارات کے خلاف ممکنہ غیر قانونی استعمال کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
چند دنوں میں، یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ڈیپ سِیک کے عروج نے نہ صرف یورپی ریگولیٹرز کی توجہ حاصل کی ہے بلکہ انہیں اس کی کارروائیوں پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ صارفین کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔
