اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نریندر مودی خطے کے لیے خطرہ ہیں اور ان سے کسی بھی چیز کی توقع کی جا سکتی ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی وزیراعظم کی پالیسیز پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق بھارتی عسکری مشقیں محض ایک سیاسی ڈرامہ ہیں اور اس وقت دنیا میں صرف اسرائیل ہی بھارت کے ساتھ کھڑا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت نے ابھی تک پہلگام واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا اعلان نہیں کیا، جو کہ ان کی جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری مسلح افواج کے لیے بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے تاکہ وہ ملک کی سالمیت اور دفاع کو بہتر طور پر یقینی بنا سکیں۔
وزیر دفاع نے جنرل باجوہ اور موجودہ آرمی چیف کے درمیان واضح فرق کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ موجودہ قیادت سے بہتر نتائج کی توقع ہے۔ مزید برآں، انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی کشمیر پر بیان بازی کو بھارت کے لیے تکلیف دہ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کے لیے پاکستان کا پانی روکنا آسان نہیں۔
یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستانی پارلیمانی وفد نے اقوام متحدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے سفیروں کو پاک بھارت حالات سے مطلع کیا ہے اور او آئی سی نے سندھ طاس معاہدے کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ملک میں داخلی سکیورٹی کی صورتحال پر بھی نظر رکھتے ہوئے، وزیر داخلہ سندھ نے ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کی وضاحت دی اور کہا کہ جیل کی دیوار نہیں ٹوٹی بلکہ قیدی گیٹ کے ذریعے فرار ہوئے۔
اسی طرح، بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور کبھی الگ نہیں ہو سکتا۔ مزید برآں، وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جنگ بندی میں سہولت کاری کی۔
