اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنے مفادات کے بجائے مشترکہ اتحاد کی راہ اختیار نہ کی تو ان کی باری آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی بچوں پر ظلم کر رہا ہے اور ان کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ اور برادر ملک ہے اور ہمارے تعلقات کی تاریخ میں کم ہی ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ایران، فلسطین اور یمن کو نشانہ بنا رہا ہے۔ مسلم دنیا کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اگر وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتی رہی تو انہیں بھی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زیادہ تر مسلم ممالک عسکری طور پر کمزور ہیں اور او آئی سی کا اجلاس بلانے کی ضرورت ہے تاکہ مشترکہ اسٹریٹیجی طے کی جا سکے جس سے اسرائیل کا سامنا کیا جا سکے۔ خواجہ آصف نے اسلامی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلم ممالک کے ضمیر جاگ رہے ہیں جبکہ مسلمانوں کی جانب سے کوئی مضبوط آواز نہیں اٹھ رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔ خواجہ آصف نے ایران پر حالیہ حملوں کے حوالے سے کہا کہ یہ حملے اسرائیل نے کیے ہیں اور انہیں ہر قسم کی مدد فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر اسلامی اتحاد کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔
مہنگائی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اس میں کچھ استحکام بھی آیا ہے۔ انہوں نے اسٹاک مارکیٹ کی بہتری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کو قرضہ نہ دینے کی درخواست کی تھی۔
خواجہ آصف نے سیاست میں ایک شخص کو محور بنانے کی مخالفت کی اور زور دیا کہ ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔
