نیویارک (23 ستمبر 2025): امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے سامنے ایک دھواں دھار تقریر کی۔ اپنے طویل خطاب میں صدر ٹرمپ نے کھل کر بات کی اور فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے، یوکرین میں جاری جنگ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم عالمی مسائل پر اپنا سخت مؤقف پیش کیا۔ ان کے خطاب کے تین اہم پہلو یہ ہیں۔
فلسطین کی ریاستی حیثیت کی تسلیم کے حوالے سے، صدر ٹرمپ نے کہا کہ جن ریاستوں نے حال ہی میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، ان میں فرانس بھی شامل ہے، وہ “حماس کے دہشت گردوں کو انعام دے رہی ہیں” جو “امن کے تمام عمل کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہے”۔ امریکی صدر نے تمام حاضرین سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ “غزہ میں جنگ کا خاتمہ کریں”، اور اس بات پر زور دیا کہ “حماس کو تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کرنا چاہیے”۔
یوکرین میں جاری جنگ پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو اپنی مختلف امن کوششوں میں مدد نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “میں نے سات جنگیں ختم کی ہیں، مجھے اقوام متحدہ کی جانب سے ان تنازعات کو حل کرنے میں مدد کی پیشکش کے لیے کوئی فون کال موصول نہیں ہوئی۔” انہوں نے یوکرین کے تنازعے کے حوالے سے کہا، “میں سمجھتا تھا کہ یوکرین کا تنازع حل کرنا آسان ہے، کیونکہ میرے ولادیمیر پوتن کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔” انہوں نے یورپی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ “یورپ کو روس سے تیل خریدنا بند کر دینا چاہیے، یہ شرمناک ہے”۔
اپنے خطاب میں، صدر ٹرمپ نے جاری تنازعات کے بعد ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کے حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کیا، اسے “تاریخ کی سب سے بڑی دھوکہ دہی” قرار دیا۔ انہوں نے شرکاء کو مشورہ دیا کہ “آپ خود کو بیوقوف نہ بننے دیں”، اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے نتائج سے خبردار کرنے والے سائنسدانوں اور دیگر افراد کو “احمق” قرار دیا۔
