ایک ہفتے کے مکمل تعطل کے بعد ایئربس اے380 نے نیس ایئرپورٹ پر لینڈ کیا
وسطی مشرقی جنگ کے باعث ایک ہفتے کے مکمل تعطل کے بعد اتوار 8 مارچ کو دبئی اور فرانسیسی ریویرا کے درمیان ہوائی رابطہ بحال ہو گیا۔ نیس کوٹ ڈی ازور ایئرپورٹ پر دوپہر کے وقت ایئربس اے380 کے لینڈنگ نے راہداریوں میں امید کی کرن پھیلائی، جس میں 360 مسافر سوار تھے۔ تاہم، واپس آنے والے مسافروں پر جنگی تجربات کے گہرے اثرات مرتسم ہیں۔
مسافروں کے ذہنوں پر جنگ کے مناظر کا سایہ
کانز سے تعلق رکھنے والی چار بچوں کی ماں میری لارے کا کہنا ہے کہ ان کی چھٹیاں اچانک خوفناک تجربے میں بدل گئیں۔ “ہم بالکل تیار نہیں تھے، یہ واقعی دہشت تھی، الارمز… اب بھی اس کے بارے میں سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔”
نیس کی رہائشی میلوڈی، جو اپنے 7 اور 11 سالہ بچوں کے ساتھ سفر کر رہی تھیں، کا کہنا ہے کہ ان کا سفر کرنے کا نظریہ ہمیشہ کے لیے بدل گیا ہے۔ “دھماکے کی آوازیں… کھڑکیوں سے دور ہٹ جاؤ! یہی ہم سن رہے تھے! میری زندگی میں یہ یورپ سے باہر میرا آخری سفر تھا۔”
خالی سیٹوں پر مسافروں کا غم و غصہ
ہوائی رابطے کی بحالی کے باوجود، مسافروں میں انتظامیہ کے فیصلوں پر شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔ اتوار کی پرواز صرف 70 فیصد بھری تھی، جس میں 150 سے زائد سیٹیں خالی رہیں، حالانکہ سیکڑوں مسافر واپسی کے ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
میلوڈی نے بتایا، “ہوائی جہاز تقریباً خالی تھا، لوگ قطاروں میں لیٹ کر سو رہے تھے۔ یہ شرمناک ہے کہ جب ہم واپس آنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، اتنی سیٹیں خالی تھیں۔”
اس کے برعکس، نیس سے دبئی جانے والی پرواز میں صرف 80 مسافر سوار تھے، جو اس خطے میں موجودہ عدم استحکام کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
خاندانوں کے لیے جذباتی واپسی
ایئرپورٹ کی آمدنی راہداری میں جذبات اپنے عروج پر تھے۔ میلوڈی کی ماں صوفی نے اپنے پیاروں کے محفوظ واپس آنے پر آنسوؤں پر قابو نہ پایا۔ انہوں نے رات بھر جاگ کر صبح 4 بجے پرواز کے اڑان بھرنے کا انتظار کرنے اور تنازعہ کے علاقے میں اپنے خاندان کی فکر کرنے کے تجربے کو بیان کیا۔
خطے میں ہوائی سفر کا مستقبل غیر یقینی
اگرچہ ہوائی رابطہ بحال ہو گیا ہے، لیکن مسافروں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسطی مشرقی علاقے میں سفر کے حوالے سے اعتماد بحال ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ خالی پروازوں کی موجودگی اور مسافروں کے شدید جذبات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں ہوائی سفر معمول پر آنے سے پہلے طویل المدتی نفسیاتی اور انتظامی چیلنجز درپیش ہیں۔
