جہاز محفوظ طریقے سے اترا، پائلٹ کی حالت مستحکم
امریکی میڈیا نے جمعرات کو رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کا ایک ایف-35 اسٹیلتھ وار پلین مشتبہ ایرانی فائر سے ٹکرا کر مشرق وسطیٰ میں واقع ایک امریکی ائیر بیس پر ایمرجنسی لینڈنگ پر اترا۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایران کی طرف سے امریکی ایف-35 جہاز کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی کمان نے تحقیقات کا اعلان کیا
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا، “جہاز محفوظ طریقے سے اتر گیا ہے اور پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔” انہوں نے اے بی سی اور سی این این جیسے ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹس کی تصدیق سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ “اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔”
تنازعے کے دوران امریکی ہوابازی کے نقصانات
اس تنازعے کے دوران امریکہ کے متعدد ہوائی جہاز ضائع ہو چکے ہیں، جن میں تین ایف-15 جہاز شامل ہیں جو کویت کی افواج کی طرف سے غلطی سے مار گرائے گئے، اور ایک کے سی-135 ری فیولنگ ایئرکرافٹ جو عراق میں گر کر تباہ ہوا۔ تاہم، اس سے قبل ایران کی طرف سے کسی امریکی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئی تھیں۔
امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر وسیع فضائی مہم
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک وسیع فضائی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم سے قبل خطے میں امریکی فوجی دستوں، بشمول ایف-35 جہازوں، میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
جانی نقصان اور ممکنہ فوجی تعاون میں اضافہ
28 فروری سے شروع ہونے والی اس کارروائی میں تیرہ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں: چھ کے سی-135 حادثے میں اور سات جنگ کے ابتدائی دور میں ایرانی حملوں میں۔ امریکی فوج کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک مشرق وسطیٰ کے سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔
ایک امریکی اہلکار اور منصوبہ بندی سے واقف تین دیگر افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ خطے میں ہزاروں مزید امریکی فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، جمعرات کو ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس زمینی فوجیں تعینات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ایران کی طرف سے نئی میزائل لانچ
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر بمباری میں اسرائیل نے تنہا کارروائی کی اور انہوں نے تصدیق کی کہ ٹرمپ نے اسرائیل سے ایسے حملوں میں تاخیر کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 20 دنوں کی امریکی-اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے بعد ایران “تباہ” ہو رہا ہے اور اب اس کے پاس یورینیم کو افزودہ کرنے یا بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت نہیں رہی۔
اسرائیلی لیڈر کے خطاب کے دوران، ایران نے اسرائیل کی طرف میزائلوں کی ایک نئی لہر داغی، جس کی اسرائیلی فوج اور ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے تصدیق کی۔
