ایک حالیہ واقعے میں فرانس نے اس وقت شدید ناراضگی کا اظہار کیا جب ایک روسی لڑاکا طیارے نے فرانسیسی جاسوسی ڈرون کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا جب ایک روسی SU-35 لڑاکا طیارے نے مشرقی بحیرہ روم کے بین الاقوامی پانیوں پر نگرانی کرنے والے ایک فرانسیسی ریپر ڈرون کے خلاف “جارحانہ” حرکت کی۔
فرانس کے وزیر برائے مسلح افواج، سباستین لیکورنو نے منگل، چار مارچ 2025 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈرون پر نصب کیمرے سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں روسی طیارے کو فرانسیسی ڈرون کے خطرناک حد تک قریب آتے ہوئے دکھایا گیا۔
لیکورنو نے اس واقعے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے روسی طیارے کی کارروائی کو “جارحانہ اقدام” قرار دیا، جس میں تین بار قریب سے گزرنے کی کوشش کی گئی، جو ڈرون کے کنٹرول کے نقصان کا سبب بن سکتی تھی۔ انہوں نے ان حرکتوں کو بین الاقوامی فضائی حدود میں آزادانہ نقل و حرکت کو روکنے کی کوشش قرار دیا۔
“یہ ایک جان بوجھ کر، غیر پیشہ ورانہ اور جارحانہ اقدام تھا جو ناقابل قبول ہے،” لیکورنو نے زور دے کر کہا، اور بین الاقوامی فضائی اور بحری حدود میں نقل و حرکت کی آزادی کے دفاع کے لیے فرانس کے عزم کو نمایاں کیا۔
یہ واقعہ یوکرین کے تنازعہ میں حالیہ تبدیلی کے بعد بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان پیش آیا، جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شمولیت بھی شامل ہے۔ فرانس کا مضبوط موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی زونز میں عملی حفاظت اور خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، چاہے کوئی بھی اشتعال انگیزی ہو۔
مستقبل میں، فرانس اپنی فضائی کارروائیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے، جیسا کہ لیکورنو نے یقین دہانی کرائی کہ ان آزادیوں کی حفاظت کے لیے مسلسل چوکسی برقرار رکھی جائے گی۔
