نشیبی علاقے زیر آب، رہائشیوں کو منتقل کیا گیا
مغربی فرانس کے متعدد علاقے جمعہ کے روز بھی غیر معمولی سیلاب کی زد میں ہیں۔ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں، سینکڑوں مکانات زیر آب آ چکے ہیں اور نقل و حمل کے نظام میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ حکام نے متنبہ کیا ہے کہ یہ بحران ہفتے کے آخر تک جاری رہ سکتا ہے۔
ویجیکروز کا انتباہ: “پانی کی سطح میں کمی انتہائی سست رفتاری سے ہوگی”
فرانس کی سیلاب نگرانی ایجنسی ویجیکروز کے مرکزی ڈائریکٹر لیوسی چاڈورن-فیکون نے ایک بریفنگ میں کہا، “بارشوں میں عارضی کمی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سیلاب کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ دریاؤں میں پانی کی انتہائی بلند سطح اور زمین کی اشباع کی وجہ سے پانی کی سطح میں کمی انتہائی سست رفتاری سے ہوگی۔”
تین محکموں میں سرخ الرٹ، وزیر اعظم نے مکمل ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا
حکام نے جمعہ اور ہفتہ کے لیے تین محکموں میں سرخ الرٹ جاری کیا ہے۔ وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو نے متاثرین سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں جلد از جلد معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، “مغربی علاقوں میں سیلاب کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔”
موسمیاتی تبدیلی اور انتہائی بارشوں میں اضافہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں فرانس میں موسموں کے انتہائی رجحانات میں اضافہ ہوا ہے۔ جنوری اور فروری کے مہینے عام طور پر سال کے سب سے زیادہ بارش والے مہینے نہیں ہوتے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔
ہنگامی خدمات مسلسل متحرک، عوامی ہدایات جاری
ہنگامی خدمات سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز میں مصروف ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے گریز کریں، زیر آب سڑکوں پر گاڑی نہ چلائیں اور مقامی حکام کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ مزید معلومات اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری ذرائع سے رجوع کریں۔
