حالیہ دنوں میں فرانس کی سیاست میں اسلامی انتہا پسندی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے۔ نیشنل ریلی پارٹی کی سربراہ مارین لی پین نے وزیر داخلہ برونو ریتایو کی پالیسیوں کو ایک “مذاق” قرار دیا ہے، جو ان کے مطابق، اسلامی انتہا پسندی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہیں۔
مارین لی پین نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ فرانسیسی حکومت کی جانب سے اخوان المسلمون کی تحریک پر جاری کردہ رپورٹ ان کے دیرینہ موقف کی تصدیق کرتی ہے، جو وہ گزشتہ پندرہ سالوں سے بیان کرتی آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم ایک “خطرناک نظریہ” کی نمائندگی کرتی ہے اور حکومت کو اس کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
مارین لی پین نے مزید کہا کہ برونو ریتایو کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو صدر ایمانوئل میکرون نے مسترد کر دیا ہے، اور انہیں ایک “ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز میں کوئی سنجیدگی نہیں تھی اور یہ صرف رسمی کارروائیاں تھیں۔
موجودہ سیاسی ماحول میں، جہاں 2022 کی صدارتی انتخابی دوڑ میں وزیر داخلہ برونو ریتایو کو بھی ایک اہم امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، مارین لی پین نے اپنی پارٹی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ ان کی پارٹی ہی حقیقی معنوں میں اسلامی انتہا پسندی کے خلاف مؤثر اقدامات کر سکتی ہے۔
مارین لی پین کے بیانات نے سیاسی حلقوں میں بحث و مباحثے کو مزید بڑھاوا دیا ہے، جبکہ فرانس میں اسلامی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کس قسم کی پالیسیوں کو اپنانا چاہیے، اس موضوع پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
