صدر ایمانوئل میکرون نے ایران اور خطے میں صورتحال پر ٹیلی ویژن خطاب کے بعد، فرانس کی فوجی تعیناتیوں نے ملک میں ایک سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ مخالف جماعتیں پوچھ رہی ہیں کہ کیا خلیجی ممالک کی حمایت میں اقدامات فرانس کو تنازع کا ‘ہم جنگجو’ فریق بنا سکتے ہیں۔
فوجی اقدامات اور عوامی ردعمل
صدر میکرون کے 3 مارچ کے خطاب میں بحیرہ روم میں ایئرکرافٹ کیریئر چارلس ڈی گال بھیجنے، رافال لڑاکا جہازوں، فضائی دفاعی نظاموں اور ایک فریگیٹ کی تعیناتی کا اعلان شامل تھا۔ اگلے دنوں میں، امریکی طیاروں کو فرانس کے اِسٹریس اڈے کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، اور لبنان کو اسرائیلی حملوں کے جواب میں بکتر بند گاڑیوں اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ان اقدامات پر عوامی تشویش بھی سامنے آئی، جس کی ایک مثال انسٹاگرام پر فاطمہ نامی ایک شہری کا صدر میکرون کو بھیجا گیا پیغام ہے، جس میں کہا گیا: “کیا آپ جنگ ختم کر سکتے ہیں؟ میں نے ابھی جینا ختم نہیں کیا۔” صدر نے جواب دیا کہ “فرانس اس جنگ کا حصہ نہیں ہے۔ ہم جنگ میں نہیں ہیں اور اس میں ملوث نہیں ہوں گے۔”
سیاسی مخالفت اور پارلیمانی بحث کا مطالبہ
بائیں بازو کی لیڈر کلیمینس گیوٹے سمیت مخالف سیاستدانوں نے امریکی طیاروں کو اڈہ فراہم کرنے اور چارلس ڈی گال کی تعیناتی پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پارلیمانی بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے پوچھا کہ آیا یہ اقدامات محض دفاعی ہیں یا جارحانہ بن سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے تمام سیاسی جماعتوں کو 11 مارچ کو صورتحال پر بریفنگ کے لیے بلانے کا اعلان کیا ہے۔
‘ہم جنگجو’ ہونے کے قانونی پہلو
بین الاقوامی تنازعات کے قانون میں ‘ہم جنگجو’ کی اصطلاح واضح طور پر بیان نہیں کی گئی، لیکن عدالتی فیصلوں کے ذریعے کچھ معیارات طے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، کسی دوسرے ملک کو اسلحہ یا مالی مدد فراہم کرنا عام طور پر ‘ہم جنگجو’ کی حیثیت نہیں دیتا۔ تاہم، اگر کوئی ملک اپنے فوجی اڈے کسی دوسرے ملک کی جارحانہ کارروائیوں کے لیے فراہم کرے یا براہ راست فوجی منصوبہ بندی میں حصہ لے، تو اسے تنازع کا فریق سمجھا جا سکتا ہے۔
فرانسیسی فوجی ترجمان نے زور دے کر کہا ہے کہ اِسٹریس اڈے پر موجود امریکی طیاروں کا کردار صرف ‘سپورٹ’ یعنی رسد پہنچانے تک محدود ہے، اور وہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں ‘ہرگز’ حصہ نہیں لیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ضمانت نے ممکنہ قانونی تنازع کو پیدا ہونے سے روک دیا ہے۔
حکومت کا مؤقف: ‘دفاعی، نہ زیادہ نہ کم’
وزیر دفاع کیتھرین ووٹرن نے واضح کیا ہے کہ فرانس کا کردار مکمل طور پر دفاعی ہے۔ ان کے مطابق، تعینات رافال جہازوں کا مقصد ڈرون کو روکنا ہے، اور خلیجی اتحادیوں کو ہوا سے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنا باہمی دفاعی معاہدوں کے تحت فرانس کی ذمہ داری ہے۔
صدر میکرون کا مؤقف ہے کہ فرانس کا مقصد صرف فرانسیسی شہریوں اور اتحادیوں کی حفاظت، نیز لبنان کی خودمختاری کی حمایت کرنا ہے۔ حکومت کا اصرار ہے کہ وہ خطے میں جنگ میں ملوث ہونے یا قومی تنازع میں پھنسنے سے گریز کر رہی ہے، اور اپنی سفارتی کوششوں کو مرکوز رکھنا چاہتی ہے۔
