پاؤ، فرانس: فرانسوا بیاہرو، سابق وزیر تعلیم اور موجودہ وزیر اعظم، ایک بار پھر بے تھارام اسکینڈل کے گھیرے میں آگئے ہیں۔ پیر کے روز، وکیل ژاں فرانسوا بلانکو نے پاؤ کے پبلک پراسیکیوٹر سے “عدلیہ میں مداخلت” کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ الزامات 1998 میں پیرینیز-اٹلانٹیک کے کیتھولک کالج-ہائی اسکول میں پیش آنے والے زیادتی کے واقعے سے متعلق ہیں۔
وکیل بلانکو نے بتایا کہ “سیپٹ آ ہوئٹ” نامی ٹی وی پروگرام میں تفتیشی افسر نے فرانسوا بیاہرو کی ممکنہ مداخلت کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت کے جج نے ان سے کہا تھا کہ “پراسیکیوٹر جنرل نے فائل دیکھنے کی درخواست کی ہے، اور مسٹر بیاہرو نے ان سے رابطہ کیا ہے۔” بلانکو، جو پاؤ میں اپوزیشن کے رکن بھی ہیں، نے ان الزامات کو انتہائی سنگین قرار دیا اور تفتیش کے مطالبے کو جائز ٹھہرایا۔
اسکول میں 1970 سے 1990 تک ہونے والے تشدد، جنسی حملوں اور زیادتیوں کی تحقیقات جاری ہیں، جن میں سو سے زائد متاثرین سامنے آئے ہیں۔ یہ اسکینڈل فرانسوا بیاہرو کو متاثر کر رہا ہے، کیونکہ ان کے بچے اسی ادارے میں زیر تعلیم رہے اور ان کی اہلیہ نے وہاں کیتھزم پڑھایا۔
فرانسوا بیاہرو نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی معاملے میں مداخلت نہیں کی، اور ان کی بات کی تصدیق متاثرہ کے وکیل اور سابق جج نے بھی کی ہے۔
بیاہرو کے خلاف الزامات کے بعد وزارت تعلیم نے بوردو کے ریکٹوریٹ کو اس ادارے کی جانچ کا حکم دیا ہے، جس کی کارروائی مارچ کے دوسرے ہفتے میں مکمل کی جائے گی۔ یہ جانچ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ادارہ موجودہ حالات میں کیسے کام کر رہا ہے۔
یہ معاملہ فرانس کے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر رہا ہے، جہاں فرانسوا بیاہرو کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ ان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، اور عوامی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ فرانسوا بیاہرو کو ان الزامات کے جواب میں عدالت میں اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی۔
