فرانس کی جانب سے بھیجے گئے پہلے میرج 2000-5 طیارے یوکرین پہنچ گئے ہیں، جو اس ملک کی فضائی دفاعی صلاحیت کو مزید تقویت دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ یہ طیارے ان F-16 طیاروں کے اضافے کے طور پر پہنچائے گئے ہیں، جو متعدد یورپی ممالک کی جانب سے پہلے ہی یوکرین کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اگرچہ پیرس نے ان طیاروں کی تعداد کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں، لیکن کیو کی امید ہے کہ مستقبل میں اسے چھ میرج 2000-5 طیارے ملیں گے، جو لڑائی کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
گزشتہ تین سال سے جاری شدید لڑائی میں یوکرین پر روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ یہ جنگ صرف زمینی نہیں بلکہ فضائی میدان میں بھی سخت معرکہ آرائی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ان طیاروں کے علاوہ، یوکرین کو امریکہ ساختہ بارہ F-16 طیارے بھی مل چکے ہیں، جبکہ نیدرلینڈز، ڈنمارک، بیلجیم اور ناروے نے یوکرین کو 2028 تک 79 F-16 طیارے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
یوکرین اور روس کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کی باتیں جاری ہیں، تاہم یوکرینی فضائی دفاع کی مزاحمت جاری ہے۔ روس کو ابھی بھی یوکرین کی فضائی حدود میں برتری حاصل نہیں ہو سکی، جبکہ یوکرین بھی اس حوالے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ اس صورتحال میں فضائی حدود ایک متنازعہ اور خطرناک میدان بنی ہوئی ہے۔
یوکرین کے فضائی دفاع کی مضبوطی کے لیے ان نئے طیاروں کی شمولیت اہم ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے ان طیاروں کی فراہمی کے لیے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر زور دیا گیا تھا۔ ان طیاروں کو فضائی دفاعی مشنوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر روسی کروز میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے۔ تاہم، یہ طیارے ہائپرسونک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
یہ طیارے یوکرین کی فضائی قوت کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے، جس کی وجہ سے یوکرینی پائلٹس کی بقاء کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ تاہم، طیاروں کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ یوکرینی پائلٹس انہیں کس طرح استعمال کرتے ہیں اور ان کی جنگی صلاحیتیں کس حد تک موثر ثابت ہوتی ہیں۔ فرانس نے حالیہ مہینوں میں یوکرینی پائلٹس کو تربیت فراہم کی ہے، تاہم یہ تربیت معیاری معیار سے کم تھی۔
