اسرائیل کی حماس کے خلاف جاری جنگ میں، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک بار پھر یہ محسوس ہوا ہے کہ وہ اسلامی تحریک کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں جس کے ساتھ انہیں مذاکرات کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس جنگ کے ایک اہم مقصد، یعنی حماس کا سیاسی اور فوجی طور پر خاتمہ، میں ناکامی کی صورت حال واضح ہوتی جا رہی ہے، حالانکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 20,000 حماس کے جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کے حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران حماس کے ہزاروں جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، مگر حماس کے نئے بھرتی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ حماس کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کے تحت غزہ کی پٹی میں ممکنہ حکومت کے مستقبل کی صورتحال ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔ حماس کے مطابق، اس منصوبے نے صرف “آگ میں مزید تیل” ڈالنے کا کام کیا ہے۔ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ 1.8 ملین غزہ کے رہائشیوں کو نکال کر علاقے کو امریکی کنٹرول میں دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن انہوں نے اس منصوبے کے عملی پہلوؤں کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
فلسطینی ڈاکٹر اور سیاستدان مصطفی بارغوتی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تضاد ہے کہ نیتن یاہو حماس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ انہیں اس کے ساتھ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ بارغوتی کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نیتن یاہو حماس کو ختم نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ ایک خیال ہے۔
بارغوتی نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت ہے اور اس کے لئے انتخابات کا انعقاد ہونا چاہئے، جو گزشتہ دو دہائیوں سے نہیں ہوئے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی غیر فعالیت پر بھی تنقید کی۔ اس ضمن میں، دوحہ سے ایک تجزیہ کار ہیزام امیرہ فرنانڈز نے کہا کہ “حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں”، جبکہ اسرائیلی حکومت نے غزہ کی پٹی میں موجودہ انتظامیہ کے متبادل کے لئے بہت کم کام کیا ہے۔
جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کی انتظامیہ کا سوال اب بھی حل طلب ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ جنگ بندی اور حماس کے جنگجوؤں کی جانب سے فلسطینی جنگجوؤں کی رہائی کے جشن کے مناظر نے اسلامی گروپ کی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ بارغوتی کا کہنا ہے، “وہ ختم نہیں ہونے والے ہیں۔”
حماس کی داخلی قیادت کی صورتحال بھی دلچسپ ہے۔ بارغوتی کا کہنا ہے کہ اس کی قیادت اب مشاورتی کونسل کے ذریعے چلائی جا رہی ہے، جبکہ حماس کی طاقت کو برقرار رکھنے کے حوالے سے کچھ امیدیں نظر آ رہی ہیں۔ حالیہ جنگ کے دوران حماس کے کئی اہم رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی یہ گروپ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں کامیاب ہے۔
اس جنگ میں ہونے والی بھاری انسانی بھاری قیمت کے باوجود، اسرائیل کی حکومت اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام نظر آتی ہے کہ اس کے اقدامات اس کے داخلی مسائل کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ حکومت کی داخلی تضادات اور ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں یہ جنگ ایک نئے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔
