فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے ہفتے کے روز مزید تین اسرائیلی یرغمالیوں کو فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تبادلہ جنگ بندی معاہدے کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد غزہ میں 15 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، آج رہائی پانے والے اسرائیلی شہریوں میں اوہاد بن امی، ایلی شارابی اور اور لیوی شامل ہیں۔ ان میں سے دو افراد کو سات اکتوبر 2023 کو کیبُتز بیری کے علاقے سے یرغمال بنایا گیا تھا، جبکہ اور لیوی کو اسی دن نووا میوزک فیسٹول سے اغوا کیا گیا تھا۔ حماس نے تصدیق کی ہے کہ ان تینوں اسرائیلیوں کو آج بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کیا جائے گا، جو انہیں اسرائیلی افواج کے پاس پہنچائے گا۔
حماس کے بیان کے مطابق، یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل 183 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جن میں سے کچھ افراد ماضی میں حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سزا یافتہ ہیں۔ رہا کیے جانے والے قیدیوں میں 18 افراد عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور 111 وہ ہیں جو جنگ کے دوران غزہ سے گرفتار ہوئے تھے۔
روئٹرز کے مطابق، وسطی غزہ کے علاقے دیر البلاغ میں تبادلے کے مقام پر حماس کے درجنوں مسلح اور نقاب پوش جنگجو تعینات ہیں۔ رہائی پانے والے یرغمالیوں کے اہل خانہ میں انتظار، امید اور خوف کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اوہاد بن امی کے اہل خانہ نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
مائیکل لیوی، جو اور لیوی کے بھائی ہیں، نے سات اکتوبر کے حملے میں اپنی بیوی اور تین سالہ بچے کو کھو دیا تھا۔ مائیکل نے کہا، “میں جوش اور خوشی کے ان جذبات کا اظہار بھی نہیں کر سکتا۔ آخرکار یہ سب ختم ہونے والا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے بھائی اور بھتیجے کے دوبارہ ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ تبادلہ یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی کا تازہ ترین حصہ ہے، جس کے تحت اب تک 13 اسرائیلی اور 5 تھائی یرغمالیوں کو حماس کے قبضے سے رہا کیا جا چکا ہے، جبکہ اسرائیلی جیلوں سے 583 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا گیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت ابتدائی مرحلے میں 33 اسرائیلی بچے، خواتین، بیمار، زخمی اور معمر مردوں کو تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا جانا ہے۔ دوسرے مرحلے کے مذاکرات رواں ہفتے شروع ہو چکے ہیں، جن کا مقصد باقی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کے معاہدے تک پہنچنا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے اس معاہدے کے کامیاب ہونے کی امیدیں ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ مطالبات نے اس معاہدے کی کامیابی کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ عرب ممالک اور فلسطینی گروپوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نسلی تطہیر کے مترادف ہے۔
یہ واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ کیا تھا، جس میں تقریباً 12 سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں غزہ میں وسیع تر فضائی اور زمینی عسکری کارروائیاں شروع کی تھیں، جس کے نتیجے میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 47,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
