امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے تارکین وطن کے لیے ڈیٹینشن سینٹرز کی توسیع کے لیے 38 ارب ڈالر سے زائد کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ گورنر نیو ہیمپشائر کیلی ایوٹ کے ذریعے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق، یہ منصوبہ 2026 کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
منصوبے کی تفصیلات
دستاویزات کے مطابق آئی سی ای 8 بڑے ڈیٹینشن سینٹرز اور 16 پروسیسنگ سائٹس کے حصول اور تجدید پر تقریباً 40 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔ اس کے تحت 20 سے زائد موجودہ عمارتوں کو تارکین وطن کے ڈیٹینشن سینٹرز میں تبدیل کیا جائے گا۔
- کل تخمینی لاگت: 38.3 ارب ڈالر
- ہدف: 92,600 اضافی بستروں کی فراہمی
- آخری تاریخ: 30 نومبر 2026
ڈیٹینشن کی نئی اصطلاحات
آئی سی ای کے نئے “ریجنل پروسیسنگ سینٹرز” میں تارکین وطن اوسطاً 3 سے 7 دن تک رکیں گے، جبکہ بڑے مراکز میں یہ مدت 60 دن تک ہو سکتی ہے۔ ایک مقام میرمیک، نیو ہیمپشائر میں 30,000 مربع میٹر کی عمارت ہے جس میں 400 سے 600 بستر لگانے کا منصوبہ ہے۔
بجٹ اور عملے میں اضافہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور میں امیگریشن پالیسیوں پر زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران:
- ڈیٹینشن میں تارکین وطن کی تعداد 40,000 سے بڑھ کر 70,000+ ہو گئی
- آئی سی ای کے عملے میں 10,000 سے 22,000 تک اضافہ ہوا
- ایجنسی کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا
تنقید اور دفاع
انسانی حقوق کی تنظیموں نے ماضی میں ڈیٹینشن سینٹرز کی حالت زار پر تنقید کی ہے۔ تاہم آئی سی ای کا کہنا ہے کہ نئے منصوبے کا مقصد “عملدرآمد کی کارکردگی کو بہتر بنانا، لاگت کو کم کرنا، اور تمام تارکین وطن کی حفاظت، وقار اور احترام کو یقینی بنانا” ہے۔
دستاویزات میں 2026 میں پولیس آپریشنز اور گرفتاریوں میں مزید اضافے کی توقع کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ امیگریشن انفورسمنٹ کی یہ مہم جاری رہے گی۔
