صوبائی وزیراعلیٰ کا دعویٰ، پارٹی کے اندر سے اختلافات کے باوجود
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو جیل سے رہا کروانے کے لیے ایک ‘ریلیز فورس’ تشکیل دی جائے گی جس میں لاکھوں افراد شامل ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب پارٹی کے اندر سے ہی اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
‘ریلیز فورس’ میں پارٹی کے تمام ونگز شامل ہوں گے: آفریدی
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ تجویز کردہ فورس میں پارٹی کے تمام ونگز بشمول وکلاء اور انصاف یوتھ شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا، “ہم نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے جا رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام نوجوان اس وقت تیار رہیں جب بانی پارٹی کال دیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ فورس مختلف شکلوں میں موجود ہیں جیسے ریلیف فورس، ٹائیگر فورس اور ٹاسک فورس۔
پارٹی قیادت میں پھوٹ، چیئرمین گوہر علی خان نے مداخلت کی
تاہم، وزیراعلیٰ کے اس اعلان کے بعد تحریک انصاف کے اندر واضح اختلافات نظر آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے مداخلت کرتے ہوئے صوبائی وزیراعلیٰ کو اس متنازعہ منصوبے پر آگے بڑھنے سے روک دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، چیئرمین نے براہ راست اور سینئر رہنماؤں کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ ‘فورس’ کے نام سے کسی بھی ادارے کی تشکیل، خاص طور پر سیاسی مقصد کے لیے حلف اٹھانے والی فورس، آئین اور قانون کے خلاف ہو سکتی ہے اور اسے عسکریت پسندی کے دائرے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
پارٹی انفارمیشن سیکرٹری کا موقف
تحریک انصاف کے انفارمیشن سیکرٹری شیخ وقاص اکرم نے ایک ٹاک شو میں کہا کہ انہیں وزیراعلیٰ کے اعلان کے بعد ہی اس تجویز کے بارے میں پتہ چلا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وزیراعلیٰ کی طرف سے پیش کردہ ایک تجویز ہو سکتی ہے اور اس پر غور و خوض ہوگا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب پارٹی کے پاس پہلے سے انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن اور یوتھ ونگز موجود ہیں تو پھر ایسی فورس کی ضرورت کیوں ہے۔
وزیراعلیٰ کے معاون کا متضاد بیان
دوسری طرف، وزیراعلیٰ کے معشافی اللہ جان کا موقع اس سے یکسر مختلف ہے۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ جب وزیراعلیٰ نے اعلان کر دیا ہے تو فورس تشکیل دی جائے گی اور اس کے لیے سیاسی کمیٹی یا پارٹی سیکرٹری جنرل کی توثیق کی ضرورت نہیں ہے۔
عمران خان کی صحت اور حکومتی موقف
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب عمران خان کی صحت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تازہ تنازعہ بنی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے بانی کو آنکھ کی ایک سنگین بیماری ‘سنٹرل ریٹینل وین اکلوژن’ کی تشخیص ہوئی ہے اور ان کی دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔ تاہم، حکومت کا مؤقف ہے کہ سابق وزیراعلیٰ کو بہترین علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
آئندہ اقدامات
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گزشتہ ہفتے ‘عمران خان ریلیز فورس’ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ فورس کو باقاعدہ رجسٹرڈ کیا جائے گا اور یہ پرامن جدوجہد کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فورس کے اراکین عید الفطر کے فوری بعد پشاور میں حلف اٹھائیں گے۔ سیاسی حلقوں میں اس تجویز کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور پارٹی چیئرمین نے اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں سے بھی اس معاملے پر سیاسی اتفاق رائے بنانے کی کوشش کی ہے۔
