خاندان کی شدید ناراضی: پارٹی وکلاء اور چیئرمین کی کارکردگی پر سوالات
سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی بانی عمران خان کی بہنوں نے بدھ کے روز پارٹی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کی “مکمل خاموشی”، سیاسی و قانونی محاذ پر غیر موجودگی اور اپنے بھائی کی رہائی کے لیے موثر اقدامات نہ اٹھانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
احتجاجی پریس کانفرنس: وکلاء کی غیر موجودگی پر سوال
علیمہ خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “بارسٹر گوہر علی خان، لطیف کھوسہ اور بارسٹر علی ظفر کہاں غائب ہیں اور وہ مقدمات کی پیروی کیوں نہیں کر رہے؟” انہوں نے اوزما خان اور نورین خانم کے ہمراہ یہ بات کہی۔
صحت کے معاملات پر خاندانی تحفظات
عمران خان کو پیر کی رات اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کی آنکھ کی تشخیص شدہ حالت کے علاج کے حصے کے طور پر اینٹی وی ای جی ایف انٹراویٹرل انجیکشن کی دوسری خوراک دی گئی۔ علیمہ خان نے زور دیا کہ ان کے بھائی کی صحت سے متعلق کوئی بھی کارروائی یا فیصلہ ان کے مشورے کے بغیر نہیں لیا جا سکتا۔
قائدانہ کردار پر سوالات
عمران خان کی بہن اوزما خان نے کہا کہ خاندان اکثر یہ بھی نہیں جانتا کہ ان کے مقدمات میں کیا ہو رہا ہے۔ “پارٹی قیادت کہیں نظر نہیں آ رہی اور مکمل خاموشی ہے۔” علیمہ خان نے بارسٹر گوہر کی پارٹی چیئرمین کے طور پر کارکردگی پر بھی تنقید کی، یہ کہتے ہوئے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی وہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں مقدمات فکس کروانے میں ناکام رہے۔
وزیر داخلہ سے رابطوں پر تنقید
علیمہ خان نے دعویٰ کیا کہ پارٹی رہنما خاندان کو اطلاع دیے بغیر اپنے طور پر فیصلے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی زندگی کو اہمیت دینے کا دعویٰ کرنے کے باوجود، قیادت نے محسن نقوی سے رابطہ برقرار رکھا لیکن خاندان کے ساتھ معلومات شیئر کرنے میں ناکام رہی۔
خاندان کا مطالبہ: فوری قانونی کارروائی
بہنوں نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی خاموشی کی وجوہات بیان کریں اور واضح کریں کہ وہ آج کہاں کھڑے ہیں۔ علیمہ خان نے کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ پارٹی اب کارروائی کرے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاندان پارٹی کے اندر موجود “غداروں” سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔
