لاہور: پنجاب میں مسلسل جاری سیلابی صورتحال کے نتیجے میں اب تک 41 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 9 لاکھ افراد اور 6 لاکھ مویشی متاثرہ علاقوں سے نکالے جا چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے چیف کے مطابق پنجاب میں شدید سیلاب کے اثرات سندھ کے علاقوں میں 2 سے 3 ستمبر کو پہنچنے کی توقع ہے۔
صوبائی حکومت نے شہروں کو بچانے کے لیے اہم بندوں میں کنٹرول بریچز کا آغاز کر دیا ہے۔ چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف، وفاقی وزراء اور آرمی چیف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ رابطہ سڑکوں کی بحالی کے لئے بھر پور اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ متاثرین تک رسائی کو بحال کیا جا سکے۔ اس دوران امدادی آپریشن میں مزید تیز رفتاری کے لئے فوجی دستوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، شیدید بارشوں سے پیدا ہونے والا یہ سیلاب کئی سالوں بعد سامنے آیا ہے اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لئے بروقت اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ سیلابی خطرات سے آگاہ رہنے کے لئے مقامی انتظامیہ ہدایات جاری کر رہی ہے۔
