مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے۔ اسرائیلی فوج نے جمعہ کو ایرانی فوجی اور جوہری مقامات پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جس کے جواب میں تہران نے بھی بیلسٹک میزائل داغ کر جواب دیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ تل ابیب کے علاقے میں ایک عمارت پر میزائل حملہ کیا گیا جس سے شدید نقصان پہنچا۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران میں قید دو فرانسیسی شہریوں، سیسیل کوہلر اور جیک پیرس، کو فوری رہا کیا جائے۔ میکرون نے ایرانی صدر سے کہا کہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنا ضروری ہے۔
ایران نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے امریکہ کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیلی حملے نے سفارت کاری کو مزید نقصان پہنچایا ہے اور یہ اسرائیل کی دشمنی کی علامت ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی اڈوں پر مسلسل حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ان حملوں کے پیچھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح حمایت شامل ہے۔ دوسری جانب، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملے جاری رکھے تو ایران کی جوابی کارروائی مزید سخت ہو سکتی ہے۔
اردگان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان بھی خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ اردگان نے کہا کہ خطے میں نئی جنگ کے خطرے سے بچنے کے لیے سب کو محتاط رہنا چاہیے۔
اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایران نے بھی اپنے جوہری پروگرام کی حفاظت کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے نئے سربراہ کی تقرری کی ہے۔
اس صورتحال نے عالمی برادری میں تشویش پیدا کر دی ہے، اور مختلف ممالک کی حکومتیں خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔
