یروشلم کے پرانے شہر کی دیواروں کے باہر تروایح کی نماز ادا کرنے والے فلسطینیوں کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر اسرائیلی پولیس کے تشدد کے واقعے پر غیر ملکی پریس ایسوسی ایشن (ایف پی اے) نے سخت تنقید کی ہے۔ ایسوسی ایشن نے اس عمل کو “بے جا جارحیت” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ایک سی این این پروڈیوسر کا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے۔
بغیر کسی اشتعال کے جارحیت
ایف پی اے کے مطابق منگل کی شام پولیس اہلکاروں نے صحافیوں کے ایک گروپ کو “غیر ضروری اور جارحانہ انداز میں” دھکیل دیا، حالانکہ وہ اپنا کام کر رہے تھے۔ انہوں نے پرانے شہر کی دیواروں کے باہر نماز پڑھنے والے افراد کی ویڈیو بنائی رہی تھی۔ ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے متعدد صحافیوں کو حراست میں لیا، فوٹو گرافی کا سامان توڑا اور میموری کارڈز ضبط کر لیے۔
سی این این پروڈیوسر کا ہاتھ فریکچر
ایف پی اے کے مطابق، “جارحیت کے دوران ایک اسرائیلی پولیس اہلکار نے سی این این کے ایک پروڈیوسر کا ہاتھ توڑ دیا۔” ایسوسی ایشن، جو اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں سینکڑوں صحافیوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے زور دے کر کہا کہ “ایسا کچھ بھی قابل قبول نہیں ہے۔”
ایک ایف پی فوٹوگرافر کی رپورٹ
واقعے پر موجود ایک ایجنسی فرانس پریس کے فوٹوگرافر نے بتایا کہ صحافیوں کا ایک چھوٹا گروپ مسلمانوں کو تروایح کی نماز ادا کرتے ہوئے فلم بنا رہا تھا کہ اچانک پولیس کا ایک دستہ پہنچا اور اس نے “نمازیوں کے ساتھ ساتھ واقعے کو کور کرنے والے صحافیوں پر بھی زبردست تشدد کیا۔”
اسرائیلی یونین آف جرنلسٹس کا رد عمل
اسرائیل میں صحافیوں کی یونین نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پیغام میں پولیس کے رویے پر اپنی “سخت مایوسی” کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پولیس کے سربراہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ “ملوث اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیں۔”
پولیس سے کارروائی کا مطالبہ
غیر ملکی پریس ایسوسی ایشن نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ “اس بے جا جارحیت میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کرے اور آئندہ پریس کی آزادی کی حفاظت کے لیے اقدامات کرے، نہ کہ اس کی خلاف ورزی کرے۔”
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی حکام نے مشرق وسطیٰ میں 28 فروری سے جاری جنگ کے باعث سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یروشلم کے پرانے شہر کے مقدس مقامات کو بند کر رکھا ہے۔
