کراچی میں مسلسل موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں دریائے لیاری اور ملیر میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی، جس کے بعد انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر 318 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ لیاری ندی کے قریبی علاقوں سے 318 افراد کو بچا کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے اور ریسکیو ٹیمیں اب بھی میدان میں موجود ہیں۔
شہر کی دو اہم ندیوں لیاری اور ملیر جو بارش کے پانی کے اخراج کا بنیادی ذریعہ ہیں، شہری توسیع، غیرقانونی قبضوں اور کوڑے کرکٹ کی وجہ سے اپنی صلاحیت کھو چکی ہیں۔ ان ندیوں کے راستے تنگ ہونے کی وجہ سے ہر سال موسموں کے دوران سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر سندھ حکومت نے کراچی ڈویژن میں تمام تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں آج مزید بارشوں کے امکانات ہیں اور درجہ حرارت 27 سے 29 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
گذشتہ رات سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ریسکیو 1122 کی ٹیموں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ رات بھر کام کرتے ہوئے پانی میں پھنسے ہوئے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔ اس عمل میں پاک فوج نے بھی ریسکیو آپریشنز میں تعاون کیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گہرا دباؤ جو کراچی اور سندھ میں بارشوں کا سبب بنا ہوا ہے، اب بلوچستان کی طرف حرکت کر رہا ہے۔ اس دوران تھرپارکر اور دادو کے دیہی علاقوں میں کچے مکان بارشوں کی وجہ سے گر گئے ہیں۔
شہر میں بارشوں کے دوران دو نوجوان بجلی گرنے سے جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک اور شخص ڈوبنے سے انتقال کر گیا۔ انتظامیہ نے شہریوں سے احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
