شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم، 34 افراد زخمی، اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم قائم
کراچی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کی فضاﺅی حملوں میں شہادت کے خلاف ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد شہر کی دو اہم شاہراہیں پیر کو بھی ٹریفک کے لیے بند رہیں۔
شہر قائد میں اتوار کے روز امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے مظاہروں کے بعد ٹریفک کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا تھا۔ پولیس کے مطابق پرتشدد مظاہروں میں کم از کم 34 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
نکاسی کے لیے بند راستے
امریکی قونصل خانے تک جانے والے راستے بشمول پی آئی ڈی سی، بوٹ بیسن اور ٹاور علاقے آج بھی بند ہیں۔ پی آئی ڈی سی چوک سے ایم ٹی خان روڈ برج تک کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ سلطان آباد میں ایم ٹی خان روڈ پر اضافی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔
- مولوی تمیز الدین روڈ میر ویڈر ٹاور سے بند ہے۔
- بوٹ بیسن سے مائی کولاچی بائی پاس کا راستہ بھی کنٹینرز سے مسدود ہے۔
- امریکی قونصل خانے کے باہر پولیس اور رینجرز کی تعیناتی کی گئی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں اسکول بند
سڑکوں کی بندش کے باعث متاثرہ علاقوں کے اسکولوں میں چھٹیاں دی گئی ہیں۔ پی آئی ڈی سی چوک سے ڈاکٹر زیاءالدین احمد روڈ جو وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف جاتی ہے، ابتدائی طور پر بند تھی لیکن دوپہر کے بعد کھول دی گئی۔
اسی طرح شاہراہ فیصل ایف ٹی سی فلائی اوور کے قریب میٹروپول کی طرف مظاہروں کے باعث بند تھی لیکن بعد ازاں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔
پرتشدد واقعات اور تحقیقات
اتوار کے روز سلطان آباد برج کے نیچے واقع ٹریفک پولیس پوسٹ کو آگ لگا دی گئی تھی۔ پولیس نے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سینٹرل پولیس آفس کے قریب ریلی منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی۔
سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق کراچی میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی بیرونی سیکیورٹی گھیرا توڑ دیا اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا ردعمل
سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کراچی واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے علامہ شہنشاہ حسین نقوی اور علامہ شبیر میسامی سمیت مذہبی رہنماؤں سے رابطہ کرکے عوامی جذبات کو قابو میں رکھنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے مذہبی اسکالرز سے امن قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی اور عوام سے قانون و حکومت کے مفاد میں تعاون کی درخواست کی ہے۔
